سورة الانفال - آیت 32

وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر) جب ایسا ہوا تھا کہ (کفار مکہ نے) کہا تھا خدایا ! اگر یہ بات (یعنی پیغمبر اسلام کی دعوت) تیری جانب سے امر حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمیں (کسی دوسرے) عذاب دردناک میں مبتلا کر۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

26۔ کفار قریش اپنے کبر و غرور اور اسلام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں کلی طور پر عقل کے اندھے ہوگئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ قرآن واقعی تیری بھیجی ہوئی کتاب ہے تو تو ہمارے اوپر پتھروں کی بارش کر کے ہمیں ہلاک کر دے یا کسی اور عذاب میں مبتلا کر دے امام بخاری نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ بات ابو جہل نے کہی تھی، اور عطاء مجاہد بن جبیر کا قول ہے کہ نصر حارث نے ہی یہ بات کہی تھی اور تمام کفار قریش زبان حال سے یہی کہتے تھے اگر ان کے پاس عقل سلیم ہوتی تو کہتے اے اللہ اگر کہ قرآن واقعی تیری کتاب ہے تو ہمیں ہدایت کی راہ پر ڈال دے اور اس پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرما۔