سورة الانفال - آیت 25

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اس فتنہ سے بچتے رہو جو اگر اٹھا تو اس کی زد صرف انہی پر نہیں پڑے گی جو تم میں ظلم کرنے والے ہیں بلکہ سبھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے اور جان لو کہ اللہ (بدعملیوں کی) سزا دینے میں سخت ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(19) اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سو سائٹی میں گناہ پر خاموش نہ رہیں، ورنہ اس کی وجہ سے عذاب آئے گا وہ نیک وبد کے درمیان تفریق نہیں کرے گا۔ آیت میں خطاب اگرچہ صحا بہ کرام کو ہے لیکن اس کا حکم ہر زمانے کے لیے عام ہے امام احمد نے جریر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جب کسی قوم کے بعض لوگ گناہوں کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں اور اس قوم کے اکثر اور معزز لوگ انہیں نہیں روکتے تو اللہ تعالیٰ پوری قوم کو عذاب میں مبتلا کر دتیا ہے۔