سورة الانفال - آیت 12

إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) یہ وہ وقت تھا کہ تیرے پروردگار نے فرشتوں پر وحی کی تھی میں تمہارے ساتھ ہوں (یعنی میری مدد تمہارے ساتھ ہے) پس مومنوں کو استوار رکھو، عنقریب ایسا ہوگا کہ میں کافروں کے دلوں میں (مومنوں کی) دہشت ڈال دوں گا۔ سو (مسلمانو) ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ، ان کے ہاتھ پاؤں کی ایک ایک انگلی پر ضرب لگاؤ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(8) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک پوشیدہ انعام کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ مسلمان اس پر اپنے اللہ کا شکر ادا کریں، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بتایا کہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہوں اس لیے تم لوگ انہیں ثابت قدم رکھنے کی کو شش میں لگے رہو ان کے دلوں سے وسو سہ کو نکا لتے رہو، ان کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑتے رہو، میں عنقریب ہی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، اور ان کے ہر اس عضو پر کاری ضرب لگاؤ جو ان کی موت کا سبب بنے، علماء نے لکھا کہ یہ آیت صریح دلیل ہے کہ فرشتوں نے میدان بدر میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ جنگ کی تھی۔