سورة الانفال - آیت 2

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مومنوں کی شان تو یہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دہل جاتے ہیں اور جب اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ ہر حال میں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(2) اوپر والی آیت میں جب مومنین کا ذکر آیا ہے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل دو آیتوں میں انہی کے اوصاف بیان فرمائے ہیں پہلی صفت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کسی بھی حثیت سے آتا ہے تو عظمت وہیت باری تعالیٰ کو تصور سے ان پر رعب طاری ہوجاتا ہے، اور مارے خوف کے ان کے رونگٹے کھڑ ہوجاتے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سے اللہ کی نافرمانی ہوگئی ہو اور اس کی گرفت میں آجائیں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان ویقین میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور ان کے دلوں کو سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ آیت اس بارے میں بالکل صریح ہے کہ مومن کا کا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الا یمان میں ابو عبیدہ القاسم بن سلام کے حوالہ سے ایک سو چھتیس علمائے کرام کے نام ذکر کئے ہیں جن کا عقیدہ تھا کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا قات کی ان سب کا یہی عقیدہ تھا ائمہ کرام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی یہی عقیدہ تھام امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس مسئلہ میں چوک ہوئی ہے ان کا خیال تھا کہ ایمان میں کمی زیادتی نہیں ہوتی ہے جو اس صریح آیت کے خلاف ہے۔ ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں نہ غیر اللہ سے کو ئیامید رکھتے ہیں، نہ ہی ڈرتے ہیں اور نہ غیر اللہ کے حوالے اپنے معاملات کرتے ہیں۔ ان مومنین کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی فرض نمازیں اول وقت میں تمام ارکان ووجبات کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ اور ان کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے اس کی راہ پر خرچ کرتے ہیں مو منوں کے اندر مندر جہ ذیل بالا صفات ہوں گی اللہ تعالیٰ نے چوتھی آیت میں انہیں سرٹفیکیٹ دے دیا ہے ان کے ایمان میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور جنت میں انہیں بلند فرجات ملیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف کردے گا اور جنت میں انہیں انواع وقسام کی نعمتیں ملیں گی۔