سورة الانفال - آیت 1

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) لوگ تم سے پوچھتے ہیں مال غنیمت کے بارے میں کیا ہونا چاہیے؟ (١) کہہ دو مال غنیمت دراصل اللہ اور اسکے رسو کا ہے، پس اگر تم مومن ہو تو چاہیے کہ (اس کی وجہ سے آپس میں جھگڑا نہ کرو) اللہ سے ڈرو اپنا باہمی معاملہ درست رکھو اور اسکی اور اس کے رسولوں کی اطاعت میں سرگرم ہوجاؤ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(1) جنگ بدر میں مسلمانوں کو اللہ کی غیبی مدد کے ذریعہ فتح مبین ملی بڑے بڑے صنادید قریش مارے گئے اور جو قتل ہونے سے بچ گئے ان میں سے ستر (70) آدمی سلا سل کرلیے گئے اور باقی مکہ کی طرف بھاگنے میں کامیاب ہوگئے، یہ تمام مقتولین قیدی اور بھاگنے والے کفار اپنے پیچھے بہت سارے ہتھیار اودوسرے اموال غنیمت چھوڑ گئے، کچھ مسلما نوں نے انہیں جمع کیا اور کچھ مسلمانوں نے دشمنوں کا پیچھا کیا، اور کچھ جانبازوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد گھیر اڈالے رکھا تاکہ دشمن ان پر حملہ نہ کردے رات کے وقت جب سبھی اکٹھا ہوئے تو ان غنائم کے بارے میں آپس میں باتیں کرنے لگے اور ہر ایک نے اموال غنیمت کے سلسلے میں دور جاہلیت کے باقی ماندہ سماجی اور اخلاقی اثرات کے تحت اپنی اپنی محنت وجا نفشانی کے مطابق اپنا اپنا حق جتانا شروع کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرماکر مسلما نوں کو بتایا کہ میدان جنگ میں جو اموال غنیمت ہاتھ آئے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم اللہ کے حکم کے مطابق ان میں تصرف کریں گے، ان اموال کو اللہ نے نفل کے لفظ سے تعبیر کیا، اس لیے کہ نفل اضافی اور زائد چیز کو کہتے ہیں گویا مسلمانوں کو ذہن میں ی بات بٹھانی چاہی کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا اصل مقصد تو اللہ کی رضا اور جنت حاصل کرنا ہوتا ہے وہ انشاء اللہ ملے گا یہ اموال غنیمت اضافی چیزیں ہیں، اللہ نے بطور احسان انہیں تمہارے لیے حلال بنادیا ہے، جب کہ پہلے امتوں کے لیے حرام تھے، اس لیے مسلمانوں کو ان کے حصول کے لیے آپس میں اختلاف نہیں کرنا چاہیئے اور جاہلیت کے عادات واطوار سے بلند ہو کر اعلی اسلامی اخلاقی کا ثبوت دینا چا یئے۔ تقسیم غنائم کے سلسلے میں اس آیت میں موجود اجمال کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے اسی سورت کی آیت (41) میں بیان کردی ہے چنانچہ اموال غنیمت کا پانچو اں حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہا جس میں انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق تصرف کیا اسی میں بعض صحابہ کو اپنی طرف سے تشجیعی انعامات دیئے اور باقی چارحصے مجاہدین کے درمیان تقسیم کردیئے۔ آیت میں غنائم کا حکم بیان کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے مسلما نوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے پیش نظر تقوی آپس میں الفت ومحبت اور اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی بھی نصیھت کی ہے کیونکہ ایمان باللہ کا یہی تقاضا ہے اور درپردہ انہیں یہ نصیحت بھی کی ہے کہ دور جاہلیت کے عادات واطوار سے انہیں کلی طور پر دور ہوجا نا چاہیے اس لیے اسلام مسلمانوں کے لیے دینی اور اخلاقی پستی کو گوارہ نہیں کرتا۔ ابن جریر کہتے ہیں کہ آیت میں انفال سے مراد ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض مجاہدین کو ان کے حصے کے علا وہ دیا تھا جیسا کہ نبی کریمک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو سعید بن العاص کی تلوار دے دی تھی۔