سورة الاعراف - آیت 185

أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر کیا یہ نظر اٹھا کر آسمان و زمین کی پادشاہی اور جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے نہیں دیکھتے؟ نیز یہ بات کہ ہوسکتا ہے ان کا (مقررہ) وقت قریب آگیا ہو؟ (اگر سوچنے سمجھنے کی یہ ساری باتیں انہیں ہوشیار نہیں کرسکتیں تو) پھر اس کے بعد اور کون سی بات ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(115) کفار قریش کو دعوت فکر و نظر دی جا رہی ہے تاکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی خالقیت پر ایمان لے آئیں اروحلقہ بگوش اسلام ہوجائیں انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ شمس وقمر ستاروں اور بادل، سمندر اور پہار، چپایوں اور دیگر مخلوقات کے بارے میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے تاکہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ایمان لے آئیں اور آخرت میں سرخروہوں، انہیں قرآن جیسی معجزہ اور جامع کتاب کس کے بعد کس معجزہ کا انتظار ہے جسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے ؟