سورة الاعراف - آیت 181

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ان میں ضرور ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو لوگوں کو سچائی کی راہ دکھاتا اور سچائی ہی کے ساتھ ان میں انصاف بھی کرتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(111) یہاں "امتہ " سے امت محمدیہ کی ایک مراد ہے جن کی صفت یہ ہے کہ وہ حق بات بولتے ہیں دوسروں کو حق کی دعوت دیتے ہیں اور خود اس پر عمل کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان اس کے مطا بق فیصلے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحیحین میں معاویہ (رض) سے مروی ایک حدیث میں خبر دی ہے کہ میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی علمائے سلف نے لکھا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن وسنت پر کسی چیز کو مقدم نہیں کرتے چاہے وہ کسی امام کا قول ہو یا کسی پیر ومرشد کے راۓ یا خواب یا کوئی ایسا اجتہاد جو دونوں کے موافق نہ ہو، یا عبادات وتسبیحات اور ذکر الہی کے وہ تمام طریقے جب کے جواز پر قرآن وسنت سے صریح دلیل نہیں ملتی وباللہ لتوفیق۔