سورة الاعراف - آیت 172

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَافِلِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر ! وہ وقت بھی لوگوں کو یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی اس ذریت سے جو ان کے ہیکل سے (نسلا بعد نسل) پیدا ہونے والی تھی عہد لیا تھا اور انہیں (یعنی ان میں سے ہر ایک کو اس کی فطرت میں) خود اس پر گواہ ٹھہرایا تھا۔ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا تھا : ہاں تو ہی ہمارا پروردگار ہے، ہم نے اس کی گواہی دی اور یہ اس لیے کیا تھا کہ ایسا نہ ہو تم قیامت کے دن عذر کر بیٹھو کہ ہم اس سے بے خبر رہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(106) مذکورہ بالا آیت کے اختتام پر موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات کا تسلسل ختم ہوجاتا ہے، اور اب روئے سخن عام انسا نوں اور بالخصوص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے لوگوں کی طرف ہے اور انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف بنی اسرائیل سے ہی عہد نہیں لیا تھا بلکہ یہ عہد تو اس نے ہر فرد سے لیا ہوا ہے، جس کی تفصیل آئندہ آیت میں آرہی ہے۔ آیت کا ظاہری مفہور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی تمام اولاد کی (جو قیامت تک پیدا ہوگی) ازل میں ان کے آباء کی پیٹھوں سے نکالا اور ان سے اس بات کی گواہی لی کہ وہی ان کا رب اور ان کا خالق ومالک ہے، شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ صحیح مرفوع اور موقوف احادیث سے اسی کیا تائید ہوتی ہے۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ اللہ نے روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا کیا اور شہادت انہی روحوں نے دی۔ کچھ دوسرے مفسرین نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ اللہ نے ازل میں ان سب کو اکٹھا نہیں کیا تھا بلکہ ابن آدم کی تخلیق اس بات کی گوا ہی دیتی ہے کہ ان کا خالق اللہ ہے، آیت میں مثال کے ذریعہ اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اس قول کے مطابق کا مفہوم یہ ہوگا کہ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی کمال کاریگری کے جو آثار ہیں، ان ہی کے پیش نظر گویا انسانوں نے کہا ہے کہ ہاں ہے ہمارے اللہ ! توہی ہمارا رب ہے، اس لیے کہ شہادت کبھی زبان قال سے ادا ہوتی ہے اور کبھی زبان حال سے اسی بات کو گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور اس کی علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، ان کی فطرت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، ان کی فطرت میں یہ بات ودیعت کردی گئی ہے کہ وہ پکار پکار کر کہہ رہا ہیں اے اللہ ! توہی ہمارا رب ہے ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں اور قیامت کے دن بھی وہ اس کا انکار کرسکیں گے۔ حافظ ابن کثیر نے تقریبا اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ سلف وخلف میں سے ایک جماعت کا یہی کہنا ہے کہ بنی آدم کی ذریت کو گواہ بنانے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنی توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے، اور جو روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ اللہ آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا، اور ان سے بات کی اور انہوں نے جواب دیا تو اس طرح کی روایتیں صحیح نہیں ہیں، اور اگر بعض صحیح ہیں تو ان کی عبادت آیت کے الفاظ سے ملتی جلتی ہیں، جن حتمی طور پر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ نے واقعی آدم کی ذریت کو ان کی پیتھ سے نکالا تھا اور تیسری بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر روایتیں ابن عباس پر موقوف ہیں۔ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہیں۔ اس فطری عہد کے بعد اب کوئی فرد بشر قیامت کے دن نہیں کہہ سکے گا کہ ہمیں تو پیغام پہنچا ہی نہیں تھا، یا یہ کہ ہم تو اپنے آباء اجداد کے نقش قدم پر چلتے رہے، اس لیے ہمارا موخذ کیوں ہو رہا ہے، جب ایک فرد بشر کی فطرت پکارپکار کر توحید باری تعالیٰ کی گو اہی دے رہی ہے اور اللہ کے سامنے نہ جھکنے یا اس کے علاوہ غیروں کے سامنے جھکنے کا انکار کررہی ہے، تو قیامت کے دن کسی مشرک و کافر کے پاس کون سا عذر باقی رہے گا، وباللہ التوفیق۔