سورة الاعراف - آیت 158

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر ! تم لوگوں سے) کہو اے افراد نسل انسانی ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں، وہ خدا کہ آسمانوں کی اور زمین کی ساری پادشاہت اسی کے لیے ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اسی کی ایک ذات، وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے، پس اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر کہ اللہ اور اسکے کلمات (یعنی اس کی تمام کتابوں) پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کی پیروی کرو (کامیابی کی) راہ پر تم کھل جائے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(92) مندرجہ ذیل بالا آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) مناقب وفضائل بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، اس لیے کے زہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ انبیا ءورسل میں سب اعلی مقام انہیں کا ہے، اسی لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر جمیل چھیڑ دیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبیوں میں سب سے افضل ہیں، اور اب دنیا تک کے لیے تمام بنی نوع انسان کے لیے آپ ہی ہادی اور ہبر رہیں گے، اور رہیں گے، اور ضمنی بور پر یہود نصاری کو خبر دی گئی ہے کہ اب تمام ادیان سابقہ منسوخ ہوگئے اور جو کوئی بھی آخرت میں جہنم سے نجات چاہتا ہے اسے اسلام قبول کرناہو گا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو مجھ پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں، مجھے سرخ اور سیاہ تمام نبی نوع انسان کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے، الحدیث، اور مسلم نے ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مات کے جس کسی کو بھی میری خبر دی گئی ہوگی چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی اور مجھ پر ایمان نہیں لائے گا، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ _93) یہود نصاری سمیت انسان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ نبی امی پر ایمان لائیں، اور ان کی اتباع کریں جیسا کہ ان کی بشارت گذشتہ آسمانی کتابوں میں دی جا چکی ہے یہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت امی خاص طور پر سے اس لیے لائی گئی ہے، تا اہل کتاب توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے جہ یہ وہی نبی ہیں جن کی صفت امی تورات میں مذکور ہے۔