سورة البقرة - آیت 97

قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر ! یہ اللہ کا کلام ہے جو جبرایل نے اس کے حکم سے تمہارے دل میں اتارا ہے اور یہ اس کلام کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے، جو اس سے پہلے نازل ہوچکا ہے۔ اس میں انسان کے لیے ہدایت ہے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (فلاح و کامیابی کی) بشارت

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٥١: مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت یہود کے جواب میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ جبریل ان کا دشمن، اور میکائیل ان کا دوست ہے، لیکن اس کے سبب کی تعیین میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا سبب ایک مناظرہ تھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے بارے میں آپ اور یہود کے درمیان ہوا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : کچھ یہود آپ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ سے چند ایسے سوالات کرنا چاہتے ہیں جن کے جوابات نبی کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لیکن تم لوگ یہ عہد کرو کہ اگر میں تمہارے سوالات کے جوابات صحیح صحیح دے دئیے تو تم لوگ اسلام قبول کرلو گے، انہوں نے کہا : ہاں، چنانچہ آپ نے ان تمام سوالات کے صحیح صحیح جوابات دے دئیے (جن کی تفصیل تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے) اور یہود ان کی صحت کا اعتراف کرتے گئے، آخر میں انہوں نے پوچھا کہ فرشتوں میں آپ کا دوست کون ہے؟ آپ نے فرمایا : جبرئیل، اللہ نے جتنے بھی انبیاء بھیجے ان سب کے دوست جبرئیل تھے، یہ سن کر یہود نے کہا، پھر ہم اور آپ اکٹھے نہیں ہوسکتے، اگر کوئی اور فرشتہ ہوتا تو ہم آپ کی اتباع کرتے اور تصدیق کرتے، آپ نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تو ہمارا دشمن ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ یہ مناظرہ عمر بن خطاب (رض) اور یہود کے درمیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ہوا تھا، حافظ ابن کثیر نے اسے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کی روایت کی سند عمر اور شعبی کے درمیان منقطع ہے۔ آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان یہودیوں سے کہہ دیجئے جو گمان کرتے ہیں کہ وہ آپ پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ آپ کے دوست جبرئیل ہیں کہ تمہارا یہ خیال بکواس ہے، اور کبر و عناد پر مبنی ہے، اس لیے کہ جبرئیل اللہ کے پیغامبر ہیں، اور اللہ کے حکم سے آپ کے قلب مبارک پر قرآن اتارتے ہیں، جو گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اور جو مومنوں کے لیے ہدایت و بشارت ہے، جبرئیل سے عداوت تو اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کے تمام رسولوں سے عداوت ہے، اس لیے کہ جبرئیل سے ان کی عداوت اس حق کی وجہ سے ہے جو وہ اللہ کی طرف سے تمام رسولوں پر نازل کرتے رہے ہیں۔ حضرت امام بخاری (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث قدسی ہے (جو میری کسی دوست سے عداوت کرے گا اسے میں جنگ کی خبر دیتا ہوں) اور جس کا دشمن اللہ ہوگا اس کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائے گی، اسی لیے اللہ نے جبرئیل کے دشمنوں کے خلاف اس آیت میں اپنے غضب کا اظہار کیا ہے۔