سورة البقرة - آیت 2

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ الکتاب ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ متقی انسانوں پر (سعادت کی) راہ کھولنے والی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

قرآن کریم کی انتیس سورتوں کی ابتدا حروف مقطعات سے ہوئی ہے۔ اس کے معنی و مفہوم کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ پہلا مشہور مذہب تو یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہے۔ اس کا معنی کسی کو معلوم نہیں۔ اسی لیے ان حضرات نے اس کی تفسیر بیان نہیں کی ہے۔ دوسرا مذہب ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس کی تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے، ان میں سے اکثر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ حروف سورتوں کے نام ہیں۔ بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ان حروف کے ذریعہ بہت سی قرآنی سورتوں کی ابتدا اہل عرب جن کے لیے قرآن کریم ایک چیلنج بنا کر بھیجا گیا کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانے کے لیے کی گئی کہ یہ قرآن انہی حروف سے مرکب ہے، جن سے تمہاری تقریر و تحریر کے کلمات بنتے ہیں، لیکن تم اس جیسی ایک آیت بھی لانے سے عاجز ہو، کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، کسی انسان کا نہیں؟ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (رح) نے اوائل سورۃ میں ان حروف کے لائے جانے کی حکمت یہی بیان کی ہے کہ ان کا مقصد قرآن کریم کا اعجاز ثابت کرنا ہے کہ اللہ کی کتاب انہی حروف سے مرکب ہے جن سے تمہاری گفتگو کے کلمات بنتے ہیں، لیکن پھر بھی تم اس جیسا کلام لانے سے عاجز ہو۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ کلام الٰہی ہے !! حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ جن سورتوں کی ابتدا ان حروف سے ہوئی ہے ان میں قرآن کی عظمت اور اس کے اعجازی کلام ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ الم ذالک الکتاب لاریب فیہ۔ المص، کتاب انزل الیک فلا یکن فی صدرک ھرف منہ۔ الم تنزیل الکتاب لا ریب فیہ من رب العالمین۔ حم تنزیل من الرحمن الرحیم۔ اور اسی طرح وہ تمام سورتیں جن کی ابتدا حروف مقطعات سے ہوتی ہے، آپ دیکھیں گے کہ ان سب میں قرآن کی عظمت اور اس کے اللہ کا کلام ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ یعنی وہ کتاب عظیم جو حقیقی معنوں میں کتاب ہے، اس لیے کہ اس میں علم و حکمت کے ایسے خزانے اور ایسا کھلا ہوا حق بیان کیا گیا ہے جو اگلی کتابوں میں موجود نہیں۔ کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ یعنی وہ کتاب عظیم جو حقیقی معنوں میں کتاب ہے، اس لیے کہ اس میں علم و حکمت کے ایسے خزانے اور ایسا کھلا ہوا حق بیان کیا گیا ہے جو اگلی کتابوں میں موجود نہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہے، کیونکہ عرب و بلاغت کی انتہائی بلندی پر پہنچنے کے باجود قرآن جیسی ایک چھوٹی سورت لانے سے عاجز رہے، تو کوئی عقل مند آدمی اس کے اللہ کی کتاب ہونے میں شبہ نہیں کرے گا۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : متقی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو راہ ہدایت پر نہ چلنے کی صورت میں اللہ کے عقاب سے ڈرتے ہیں، اور دین اسلام کی تصدیق اور اس پر چلنے کی صورت میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) سے کسی نے تقوی کا معنی پوچھا تو کہا کہ کبھی خار دار راستہ پر چلے ہو، اس نے کہا : ہاں، تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے کس طرح راستہ طے کیا؟ اس نے کہا : جب کانٹا دیکھتا تو اس سے الگ ہوجاتا۔ تو انہوں نے کہا یہی تقوی ہے۔ قرآن کریم میں لفظ ھدی کا استعمال دو معنوں میں ہوا ہے : پہلا معنی رہنمائی کرنا اور راہ حق کو واضح کردینا ہے ہے اس اعتبار سے قرآن کریم راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے ھدی ہے، کہ ان کی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، چاہے وہ اس سے فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ واما ثمود فھدیناہم فاستحبوا العمی علی الھدی۔ یعنی ہم نے ثمود کی حق کی طرف رہنمائی کی، لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کو پسند کرلیا۔ دوسرا معنی : بندہ کے دل میں ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور توفیق دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولئک الذین ھدی اللہ فبھداہم اقتدہ۔ یعنی یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت (راہ حق پر چلنے کی توفیق) دی، پس آپ انہی کی راہ کی اتباع کریں۔ اس آیت کریمہ میں ہدایت کے دونوں معنی مراد ہیں، اس لیے کہ اہل تقوی کو دونوں ہدایتیں حاصل ہوتی ہیں، قرآن ان کی رہنمائی کرتا ہے، اور اس کے ذریعہ راہ حق پر چلنے کی توفیق بھی انہیں ملتی ہے۔