سورة التوبہ - آیت 58

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور ان میں کچھ ایسے ہیں کہ مال زکوۃ بانٹنے میں تجھ پر عیب لگاتے ہیں (کہ تو لوگوں کی رعایت کرتا ہے) پھر حالت کی یہ ہے کہ اگر انہیں اس میں سے چیا جائے تو خوش ہوجائیں نہ دیا جائے تو بس اچانک بگڑ بیٹھیں۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) منافقین کے مصائب میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ غلط تنقید کرتے ہیں اگر انہیں صدقات وغیرہ میں کچھ نہ ملے تو بات بات پر اعتراض ہے اور اگر کچھ مل جائے تو پھر خوش ہیں ، گویا ان کی زندگی کا مقصد محض حب نفس ہے ، غور فرمائیے ، قومی اداروں میں انجمنوں میں اور ہماری اسلامی ودینی جمیتوں کیا بالکل یہی کیفیت نہیں ؟ جہاں طعم وغرض ہو ، پردہ داری ہے بددیانتی ہے اور جہاں ایثار کرنا پڑے تنقدات کا طوار ہے اور عدل وانصاف کے نام پر قوم کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے حالانکہ غرض محض انتقام کی آگ کو بھڑکانا ہے ۔