سورة الزمر - آیت 74

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور جنتی کہیں گے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا اب ہم جنت میں جہاں چاہیں گے رہیں گے پس عمل کرنے والوں کے لیے بہترین اجر ہے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٩٤] جنت کے بطور وراثت دائمی اور مالکانہ حقوق اہل جنت کو وہاں مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے کہ وہ اپنی اپنی وسیع و عریض الاٹ شدہ جنت میں جس جگہ کو اپنے حالات کے موافق سمجھیں وہاں رہیں۔ کیونکہ تَبَوَّاَ کا لفظ ایسی جگہ پر رہائش کے لئے آتا ہے جہاں کی آب و ہوا اور ماحول رہنے والے کی طبیعت کے موافق اور ساز گار ہو۔ [٩٥] اس جملہ کی نسبت متقین کی طرف بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ بات کہیں گے۔ فرشتوں کی طرف بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔