سورة الحجر - آیت 85

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ ۖ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کوٹھیک ٹھیک پیدا کیا اور یقیناً قیامت ہر صورت آنے والی ہے پس درگزر کیجیے، اچھے طریقے سے درگزر کرنا۔“ (٨٥) ”

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) یعنی اس کار گاہ حیات کو کسی مقصد کے ماتحت پیدا کیا گیا ہے ، اور وہ مقصد انسان کی تکمیل ہے ، انسانی جدوجہد کا امتحان ہے ، تقوی وپرہیزگاری کی آزمائش ہے ، یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا کارخانہ چل رہا ہو ، جس میں لاکھوں قانون کام کر کررہے ہیں ، اور اس کا کوئی مقصد نہ ہو ، انسان کے لئے یہی کافی نہٰں کہ وہ کھائے پئے اور مر جائے ، بلکہ ضروری ہے کہ وہ دنیا میں اپنے اصل موقف کو معلوم کرے ، اپنی اہمیت کو جانے اور اپنے فرائض محسوس کرے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کس سمندر کا قطرہ اور کس کل کا جزو ہے ، وہ کیوں زندہ ہے ، اور اس کی زندگی کو کیونکر مفید ودائمی بنایا جا سکتا ہے ۔