سورة الشعراء - آیت 181

۞ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” پیمانے پورے دو اور کسی کو کم نہ دو۔ (١٨١)

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں ۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ” جب کسی کو کوئی شے ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو اس کے حق سے کم نہ کرو ۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو ۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو ۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اس کی چیز کم نہ دو ۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کر کے ان سے مال نہ لوٹو ۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے ۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے “ ۔ یہی لفظ آیت «وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًا اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ» ۱؎ (36-یس:62) میں بھی اسی معنی میں ہے ۔