سورة الحج - آیت 38

۞ إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یقیناً اللہ ایمان والوں کا دفاع کرتا ہے بے شک اللہ کسی خائن اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ (٣٨)

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

1 اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ ’ جو اس کے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے ، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کر دیتا ہے ، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے ، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے ‘ ۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ وَیُخَوِّفُوْنَکَ بالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ وَمَنْ یٰضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ» ۱؎ (39-الزمر:36) یعنی ’ کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ ‘ اور آیت میں «وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا» ۱؎ (65-الطلاق:3) ’ جو اللہ پر بھروسہ رکھے اللہ آپ اسے کافی ہے ‘ الخ ، دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں ۔