سورة مريم - آیت 59

۞ فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” پھران کے بعد ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات نفس کی پیروی کی۔ جلد ہی وہ گمراہی کے انجام کو پائیں گے۔ (٥٩)

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

حدود الہٰی کے محافظ نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ ، نیک اعمال کے نمونے ، بدیوں سے بچتے تھے ۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے ۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے ، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے ، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا ، بڑے گھاٹے میں رہیں گے ۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے ۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے ۔ یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ { بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے } ۔ ۱؎ (صحیح مسلم:82) دوسری حدیث میں ہے کہ { ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے ، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا } ۔ ۱؎ (سنن ترمذی:2621،قال الشیخ الألبانی:صحیح) اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں ۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے ، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے ، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے ، کہیں محافظت کا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ” ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے “ ۔ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ” یہ تو کفر ہے “ ۔ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا ، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے ۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ” اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے “ ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ” یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے “ ۔ عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ” یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے “ ۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے ، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے ۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے ، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، { یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے ۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ یاد رکھو ، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ مومن ، منافق اور فاجر } } ۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ، ” ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے ۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا “ ۔ ۱؎ (سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:258:حسن) ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے } ۔ ۱؎ (مستدرک حاکم:244/2:منقطع) محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ” مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں “ ۔ حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں ۔ یہ نشے پینے والے ، نمازیں چھوڑنے والے ، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے ، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے ، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے ، جماعتوں کو چھوڑنے والے ۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں ۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ” اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں ، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں ، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں ۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں “ ۔ مسند احمد میں ہے ، { مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے ، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے } ۔ ۱؎ (مسند احمد:156/4:حسن) «غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی ۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے “ ۔ ابن جریر میں ہے ، لقمان بن عامر فرماتے ہیں ، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں ۔ آپ نے فرمایا ، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ { اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا ۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا ۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے } ۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا» ۱؎ (19-مریم:59) میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ (25-الفرقان:68) میں ہے ۔ ۱؎ (تفسیر ابن جریر الطبری:23790:) اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے ۔ پھر فرماتا ہے ’ ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا ، اس کی عاقبت سنوار دے گا ، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا ، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے ‘ ۔ اور حدیث میں ہے کہ { توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ } ۔ ۱؎ (سنن ابن ماجہ:4250،قال الشیخ الألبانی:حسن) یہ لوگ جو نیکیاں کریں ، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا ۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی ۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے ۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِینَ لَا یَدْعُونَ مَعَ اللہِ إِلٰہًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللہُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُونَ وَمَن یَفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَامًا یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُہَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللہُ غَفُورًا رَّحِیمًا» ۱؎ (25-الفرقان:68-70) گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے ۔