سورة الرعد - آیت 19

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بے شک جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔“ (١٩)

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

ایک موازنہ ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو ، سب پر ایمان رکھتا ہو ، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو ، سب خبروں کو سچ جانتا ہو ، سب حکموں کو مانتا ہو ، سب برائیوں کو جانتا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا قائل ہو ‘ ۔ اور آیت میں ہے «وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا» ۱؎ (6-الأنعام:115) ’ اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ‘ ۔ ’ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو ، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو ، نہ سچا جانتا ہو ، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ‘ ۔ جیسے فرمان ہے کہ «لَا یَسْتَوِی أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّۃِ أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ (59-الحشر:20) ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ، جنتی خوش نصیب ہیں ‘ ، یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ یہ دونوں برابر نہیں ‘ ۔ بات یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھداروں کی ہی ہوتی ہے ۔