کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 845
’’لڑائی کے دن اور سخت معرکہ کے وقت، نمایاں مردِ میدان (کو ہم سے چھین کر) گردش دوراں نے مجھے مصیبت میں ڈال دیا ہے۔‘‘ عصمۃ الناس والمعین علی الدھر وغیث المنتاب المنتاب والمحروب ’’وہ لوگوں کی پناہ گاہ، حادثات کے مواقع پر مدد کرنے والے، ملاقاتیوں (فریادیوں) کی فریاد رسی کرنے والے اور ناداروں کی ضرورت پوری کرنے والے تھے۔‘‘ قل لأہل السراء والبؤس موتوا قد سقتہ المنون کأس شعوب ’’خوش حالوں اورمصیبت زدوں سے کہہ دو کہ وہ بھی مر جائیں، (عمر کو) حادثۂ دہر نے موت کا جام پلا دیا ہے۔‘‘ الغرض خلیفہ راشد و عادل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کو ذکر کرتے ہوئے گویا میں انسانی عظمت کی تاریخ کا ایک تابناک باب بند کر رہا ہوں، انسانی تاریخ نے آپ کو منفرد منہج کا منفرد آدمی شمار کیا ہے۔ آپ کی تگ و دو مال جمع کرنے کے لیے نہ تھی، شیطان کی چالیں آپ کو بہکا نہ سکیں، نہ ہی اقتدار کا نشہ آپ کو راہِ حق سے بھٹکا سکا اور نہ ہی اقرباء پروری وخاندان نوازی آپ کو ظالم بنانے میں کامیاب ہوئی، بلکہ آپ کی پوری کوشش یہ تھی کہ اسلام کو سر بلندی ملے اور سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ اسلامی شریعت کی قیادت ہو اور پوری رعایا عدل وانصاف کی نعمت سے مالا مال ہو۔ چنانچہ اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے نہایت مختصر سی مدت میں یہ ساری چیزیں دیکھنے کو ملیں۔ بابرکت و مہکتی ہوئی سیرت کا مطالعہ نئی نسل کے ایمانی قالب میں ان فاروقی عزائم کی روح پھونکتا ہے جو انسانی زندگی میں ماضی کے خوبصورت ایام کی شان وشوکت اور تازگی وخوشنمائی کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔ آپ کی سیرت کا مطالعہ امت کے نوجوانوں کو راہنمائی کرتا ہے کہ اس دین کے آخری ایام اس وقت تک درست ہونے والے نہیں ہیں جب تک کہ ان اصولوں کو نہ زندہ کیا جائے جن کے ذریعہ اس دین کے اوائل ایام درست وکامیاب ہوتے تھے، آپ کی سیرت داعیان اسلام ومبلغین شریعت اور علمائے کرام کی مدد کرتی ہے کہ وہ خلافت راشدہ کے اصولوں کی پابندی کریں، اس کی منفرد ونمایاں خصوصیات، خلفائے راشدین کے اوصاف اور عالم انسانیت کو سدھارنے میں ان کے منہج کی معرفت حاصل کریں پھر یہی چیز امت مسلمہ کے لیے دوبارہ اس کی ماضی کی تہذیب واپس لانے میں معاون ثابت ہوگی۔