کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 844
ایک بات جو بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی نشرو اشاعت کے میدان میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے، لیکن اس موقع پر اگر ہم عمر ( رضی اللہ عنہ ) کے دور حکومت اور ان کی زندہ قیادت سے چشم پوشی کرتے ہیں تو یہ ہماری کھلی غلطی ہوگی۔‘‘ ۱۰: سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر مرثیہ کے چند اشعار: عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل العدویہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی موت پر یہ مرثیہ کہا: فجعنی فیروز لا در درہ بأبیض تال للکتاب منیب ’’اللہ برا کرے فیروز (ابولؤلؤ دیلمی) کا، اس نے گورے چٹے، قرآن کی تلاوت کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے (عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے) مجھے بہت بڑی تکلیف دی ہے۔‘‘ رؤوف علی الأدنی غلیظ علی العدا أخی ثقۃ فی النائبات مجیب ’’وہ کمزوروں پر مہربان اور دشمنوں پر سخت تھے، آفات و مصائب میں دوسروں کے کام آنے والے تھے۔‘‘ متٰی ما یقل لا یکذب القول فعلہ سریع إلی الخیرات غیر قطوب ’’جب کوئی بات کہتے تو اسے کر دکھاتے (قول و عمل میں تضاد نہ تھا) خیر و بھلائی کے کاموں میں بے دریغ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔‘‘ اور یہ بھی کہا: عین جودی بعبرۃ ونحیب لا تملی علی الإمام النجیب ’’سسکیاں لے لے کر آنسوؤں کی بارش کرتی ہوئی آنکھ ستودہ صفت امام پر رونے سے اکتاتی نہیں ہے۔‘‘ فجعتنی المنون بالفارس المعلم یوم الہیاج والتلبیب