کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 837
ڈاکٹر محمد سید الوکیل لکھتے ہیں: اس واقعہ کی صداقت معلوم کرنے کے لیے ایک محقق کو سب سے پہلے عبیداللہ بن عمر کے موقف پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ ابھی انہوں نے اپنے باپ پر قاتلانہ حملہ کی تفصیلی خبر سنی ہی تھی کہ غصہ سے تلوار اٹھا لی اور جنگی شیر کی طرح بپھر گئے، ہرمزان، جفینہ اور ابولؤلؤ کی چھوٹی بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ ابولؤلؤ کی چھوٹی بچی کو قتل کر دیں گے اور کعب احبار کو جو مکمل شک وشبہ کے دائرے میں ہوں انہیں چھوڑ دیں گے؟ یقینا اگر کوئی محقق اس واقعہ کی علمی تحقیق کرے گا تو یہ بات ماننے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوگا۔ مزید برآں ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے کہ جمہور مؤرخین نے اس واقعہ کو اپنی تاریخ میں جگہ دینا تو درکنار اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ چنانچہ ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں پورا واقعہ تفصیل سے اور کافی دقت سے لکھا ہے، لیکن اس واقعہ کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، کعب احبار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات لکھی ہے وہ یہ کہ کعب، عمر رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم اگر امیرالمومنین دل کی گہرائیوں سے اپنی موت کی تاخیر کے لیے اللہ سے دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ موت مؤخر کر دیتا۔ آپ کے قریب اس وقت گئے جب طبیب نے بتا دیا کہ اب آپ کی موت بالکل قریب ہے۔ آپ نے اس وقت کہا: کیا میں کہتا نہیں تھا کہ آپ شہادت کی موت مریں گے اور آپ کہتے تھے کہ بھلا جزیرہ عرب میں رہ کر یہ کہاں ممکن ہے۔ ابن سعد کے بعد، ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں شہادت کا پورا واقعہ لکھا ہے، لیکن اس میں کعب احبار کے اس واقعہ کو کہیں نہیں ذکر کیا۔رہے حافظ ابن کثیر تو ان کا کہنا ہے کہ ابولؤلؤ نے منگل کی شام دھمکی دی تھی اور ۲۶ذی الحجہ بدھ کی صبح اس نے حملہ کیا۔گویا ابولؤلؤ کی دھمکی اور اس کی قاتلانہ کارروائی کے درمیان چند محدود گھڑیوں کا فاصلہ تھا، لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کعب احبار عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کیسے اور کب گئے؟ اور جا کر کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ تین دنوں میں آپ مر جائیں گے۔ پھر کہتے ہیں کہ آج ایک دن گزر گیا، صرف دو دن اور باقی ہیں۔ پھر کہا: آج دو دن گزر گئے اب ایک دن اور ایک رات باقی ہے۔ اگر دھمکی شام کو دی اور صبح قاتلانہ کارروائی کر بیٹھا تو کعب کو یہ تین دن کہاں سے مل گئے؟ اس کے بعد سلسلہ وار متاخرین نے مثلاً سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں، عصامی نے ’’سمط النجوم العوالی‘‘ میں، شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اور ان کے صاحبزادے عبداللہ نے ’’مختصر سیرۃ الرسول‘‘ میں اور حسن ابراہیم حسن نے ’’تاریخ الإسلام السیاسی‘‘ میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کو ذکر کیا ہے لیکن کسی نے دور و نزدیک کسی اعتبار سے بھی کعب کا واقعہ نہیں چھیڑا۔ اگر اس کو جھوٹ تسلیم نہ کریں تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ محققین کے نزدیک اس واقعہ کا ذکر قطعاً اطمینان بخش نہیں ہے اور بعض لوگوں نے کعب کے خلاف لوگوں کے