کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 830
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْ مَنِیَّتِیْ بِیَدِ رَجُلٍ یَدَّعِیْ الْاِسْلَامَ۔))  ’’اللہ کا شکر ہے کہ جس نے میری موت ایسے آدمی کے ہاتھوں سے نہیں دی جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہو۔‘‘ پس باوجودیہ کہ ہر قریبی و اجنبی، عربی اور عجمی آپ کے عدل و انصاف کا معترف تھا اور آپ خود عدل و انصاف کے لیے سب کچھ قربان کر دینے والے تھے، تاہم آخری دم تک آپ کو فکر دامن گیر تھی کہ کہیں مسلمانوں میں سے کسی پر کبھی میں نے ظلم نہ کیا ہو جس کا بدلہ آج اس نے میرے قتل کے ذریعہ سے لیا ہو اور وہ قیامت کے دن بھی اللہ کے سامنے مجھے رسوا کرے، جیسا کہ ابن شہاب زہری کی روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْ قَاتَلِیْ یُحَاجُّنِیْ عِنْدَ اللّٰہِ بِسَجْدَۃٍ سَجَدَہَا لَہٗ قَطُّ)) ’’اس اللہ واحد کا شکر ہے جس نے میرا قاتل کسی ایسے آدمی کو نہیں بنایا جس نے کبھی اس کے لیے سجدہ کیا ہو جو اپنے اس سجدہ کے ذریعہ سے بروز قیامت اللہ کے سامنے میرے خلاف حجت قائم کرے گا۔‘‘ اور مبارک بن فضالہ کی روایت ہے کہ وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے ذریعہ سے میرے خلاف حجت قائم کرے۔ یہ ہے ایک ربانی امام کی خشیت الٰہی اور انکساری کی تعجب خیز داستان کہ جس سے داعیان اسلام و مصلحین امت کو سبق سیکھنا چاہیے۔ تواضع و انکساری ہی ان کے تعارف کی سب سے بڑی علامت ہو، تاکہ ان کے کردار وعمل سے اللہ تعالیٰ دوسروں کو فائدہ پہنچائے، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچا اور سب کی زبان پر یہی جاری رہنا چاہیے کہ: واحسرتی واشقوتی من یوم نشر کتابیہ ’’ہائے افسوس! ہائے میری بدبختی! جس دن ہمارا نامہ اعمال کھولا جائے گا۔‘‘ واطول حزنی إن أکن أوتیتہ بشمالیہ ’’ہائے میرا طویل غم! اگر میرا نامہ اعمال میرے بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔‘‘ وإذا سئلت عن الخطا ماذا یکون جوابیہ ’’جب میری غلطیوں اور گناہوں کا حساب و کتاب ہوگا تو میرا کیا جواب ہوگا؟‘‘