کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 824
اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری مصاحبت اور آپ کی رضا مندی کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے جس سے اس نے مجھے نوازا اور جو میری بے چینی اور غم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہو تو عذاب الٰہی کو دیکھنے سے پہلے اس سے نجات پانے کے لیے اسے فدیہ دے دوں۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اللہ کے عذاب سے اس قدر لرزاں تھے باوجودیہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسی دنیا میں جنت کی بشارت دے چکے تھے اور خود آپ نے حکومت اسلامیہ کے قیام، عدل، زہد اور جہاد جیسے اعمال صالحہ کے لیے اپنی ساری توانائی صرف کر دی تھی، لہٰذا مقام عبرت ہے تمام مسلمانوں کے لیے کہ وہ اللہ کے سخت عذاب اور روز قیامت کی ہولناکیوں کو یاد کریں اور خوف کھائیں۔ آپ کی زندگی کے آخری لمحات کی منظر کشی عثمان رضی اللہ عنہ اس طرح کرتے ہیں: ’’میں جان کنی کے وقت آخری لمحات میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کا سر ان کے فرزند عبداللہ کے زانو پر تھا۔ آپ نے اپنے بیٹے سے کہا: میرا رخسار زمین پر رکھ دو، عبداللہ نے کہا: کیا میرے زانو اور زمین میں کوئی فرق ہے؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، میرا رخسار زمین پر رکھ دے۔ آپ نے دوسری یا تیسری مرتبہ یہ بات کہی۔ پھر آپ نے اپنے دونوں پاؤں آپس میں ملا لیے۔ اس وقت آپ کو یہ کہتے ہوئے میں نے سنا کہ: ’’بربادی ہے میری اور میری ماں کی اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف نہ کیا۔‘‘ آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ روح جسم سے جدا ہوگئی۔ یہ ہے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خشیت الٰہی کی ایک مثال کہ دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل جانے کے باوجود موت کے وقت زبان سے جو آخری کلمہ ادا کرتے ہیں اس میں کہتے ہیں کہ: ’’اگر اللہ کی مغفرت سے محرومی ہوئی، اور اے نفس! تیری بربادی ہو۔‘‘ آپ ایسی بات کیوں نہ کہتے جب کہ آپ کو اللہ کی معرفت حاصل تھی اور جس شخص کو جتنا زیادہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اتنی ہی اللہ کی خشیت اس کے دل میں پنہاں ہوتی ہے۔ آپ کا اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصرار کرنا کہ میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو، یہ بھی اللہ کی تعظیم اور دعا کی جلد از جلد قبولیت کے لیے کسر نفسی کی ایک علامت تھی، جو ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کا تعلق الٰہی کس قدر مضبوط اور معتمد تھا۔ ۱: تاریخ وفات اور زندگی کے سال: امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ’’۲۶ یا ۲۷ ذی الحجہ بروز بدھ ۲۳ ہجری میں عمر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا، صحیح