کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 807
(۵) سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک عادل مومن، پاک طینت و تقویٰ شعار مجاہد، قوی اور امانت دار خلیفہ کی زندہ مثال تھے، امت مسلمہ اور اسلامی عقائد کی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ تھے۔ آپ نے دین و عقیدہ اور اس کے متبعین جس کی قیادت آپ کے ہاتھوں میں تھی، کی خدمت کے لیے اپنی پوری خلافت وقف کر دی تھی۔ آپ بیک وقت پورے اسلامی لشکر کے قائد اعلیٰ (کمانڈر جنرل)، امت کے مجتہد فقیہ اور بے داغ انصاف پرور قاضی تھے۔ اپنی رعایا کے ہر چھوٹے بڑے، کمزور و طاقتور اور فقیر و مالدار کے لیے مشفق باپ کی طرح تھے، اللہ اور اس کے رسول پر صدق دل سے ایمان لائے تھے، آپ ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاستدان، دور اندیش، حکیم و دانا اور منتظم کار تھے، آپ نے اپنی قیادت میں امت کے ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ آپ کے دور حکومت میں اسلامی سلطنت کی بنیادیں مستحکم ہوئیں اور آپ ہی کی قیادت میں فارس اور دیگر جنگی محاذوں پر بڑی بڑی فتوحات ہوئیں، قادسیہ، مدائن، جلولاء اور نہاوند فتح کرنے کے ساتھ شام اور مصر جیسے بڑے ممالک کو روم کی بازنطینی حکومت سے چھینا گیا اور جزیرئہ عرب کے پڑوس کے بیشتر شہروں میں اسلام کا بول بالا ہوا۔ آپ کی خلافت فتنوں کے سدباب کے لیے ایک مضبوط ومستحکم دیوار تھی۔ فتنوں کو زیر کرنے کے لیے آپ بذات خود ایک بند دروازہ تھے، آپ کی زندگی میں شر پسندوں کو مسلم معاشرے میں فتنہ انگیزی کی جرأت نہ تھی، جب تک آپ کی حکومت رہی فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملا۔ فتنوں سے متعلق سیّدناعمر اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کے درمیان گفتگو: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ نے پوچھا: فتنے کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تم میں سے کس کو یاد ہے؟ میں نے کہا: مجھے یاد ہے اور حرف بحرف یاد ہے۔ آپ نے فرمایا: سناؤ! تم بڑے بہادر باپ کے بیٹے ہو، بہت ذہین فطین ہو۔ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (( فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ أَہْلِہٖ وَمَالِہٖ وَنَفْسِہٖ وَوَلَدِہٖ وَجَارِہٖ یُکَفِّرُہَا الصِّیَامُ وَالصَّلَاۃُ وَٖالصَّدَقَۃُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔))