کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 791
۱: جائزہ لینا اور خبر گیری کرنا: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں نماز میں ہوتا ہوں اور اپنی فوج تیار کرتا رہتا ہوں۔ آپ کو یہ فکر اس لیے لاحق رہتی تھی کہ آپ امیرالمومنین ہونے کی حیثیت سے جہاد پر بھی مامور تھے، پس امیر جہاد بھی تھے، گویا بعض اعتبار سے آپ اس نمازی کے قائم مقام تھے جو دشمن کی نظروں کے سامنے خوف کی نماز ادا کرتا ہے۔ آپ جب اپنے قائدین کو جہاد کا علم دیتے اور انہیں جنگ پر نکلنا ہوتا تو مجموعی طور پر سب کے حالات کا جائزہ لیتے اور انہیں نصیحت کرتے۔ آپ کے انہی اقوال زریں میں سے ایک قول یہ ہے کہ: ’’کمربستہ ہو جاؤ، کپڑے اور جوتے پہن لو، نشانے اچھی طرح درست کر لو، سواریوں کو مانوس کر لو، گھوڑوں پر چھلانگ لگانے کی کوشش کرو، اپنے لیے عربی گھوڑوں کو لازم کرو، عیش پرستی چھوڑ دو، عجمیوں کا لباس نہ پہنو، جب تک تم گھوڑوں پر جست لگاتے رہو گے اور کمان میں تیر بھرتے رہو گے تمہاری قوت کمزور نہیں ہو سکتی۔‘‘ آپ کی اس بات سے ہمہ وقت آپ کی جنگی تیاری اور اسلامی قوت و شوکت کے اظہار کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ آپ کے تربیت یافتہ قائدین لشکر بھی اپنی فوج کا جائزہ لینے اور دشمن کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرنے میں بالکل آپ جیسا کردار ادا کرتے رہے، خواہ میدان کارزار ہو یا جنگی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہوں۔ چنانچہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مصر میں اپنی فوج کو خطبہ جمعہ کے دوران میں اس بات پر ابھارتے کہ اپنے گھوڑوں کو خوب کھلا کر فربہ کر لو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو مال غنیمت تقسیم کیے جانے کے موقع پر تمہارا حصہ کم کر دیا جائے گا۔ آپ نے کہا: ’’مجھے ایسی کوئی خبر نہ سننے کو ملے کہ فلاں آدمی آیا ہے، وہ خود تو موٹا ہے لیکن اس کا گھوڑا دبلا اور کمزور ہے۔ سن لو میں گھوڑوں کا اسی طرح معائنہ کروں گا جس طرح فوج کا کرتا ہوں، لہٰذا بلا کسی مرض کے جس کا گھوڑا کمزور یا دبلا نظر آیا اسی حساب سے اس کا حصہ کم کر دیا جائے گا۔‘‘ اسی طرح سفر شام کے موقع پر جب سیّدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے فاخرانہ لباس، شاہانہ شان وشوکت اور محافظوں کے گھیرے میں عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا اور ڈانٹتے ہوئے کہا: اے معاویہ! کیا یہ کسروی بادشاہت کا اثر ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! میرا قیام ایسی سرحد پر ہے جو دشمن کے بالکل سامنے ہے، جہاد اور جنگی اسلحہ سے مزین ہو کر اسے مرعوب کرنے کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ آپ یہ سن کر خاموش ہوگئے اور انہیں غلط کار نہیں ٹھہرایا۔ اس لیے کہ اس میں حق کے غلبہ اور دین کی سربلندی کا ایک مقصد پنہاں تھا۔ ۲: افواج کو لے کر چلنے میں نرمی کرنا: سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا اور حکم دیا: