کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 786
ایک مرتبہ آپ نے لوگوں کو رغبت دلائی اور محاذ عراق پر فارسیوں سے جنگ کرنے کے لیے انہیں ابھارا، لیکن کوئی تیار نہ ہوا۔ دوسرے دن پھر انہیں ابھارا، لیکن آج بھی کوئی نہ کھڑا ہوا۔ پھر تیسرے دن بھی انہیں جوش دلایا۔ اس طرح تین دن گزر گئے لیکن کوئی کھڑا نہ ہوا۔ جب چوتھے دن آپ نے رغبت دلائی اور لوگوں کو ابھارا تو سب سے پہلے ابو عبید بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ آگے آئے اور پھر یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی تیار ہوگئے۔ آپ نے ابوعبید کو اس وقت محاذ عراق پر جانے والے سارے لوگوں کا امیر بنا دیا۔ وہ صحابی نہ تھے لیکن اس مرتبہ کے اہل ضرور تھے۔ لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: امیرالمومنین! آپ نے ہم پر کسی صحابی کو امیر کیوں نہیں بنایا؟ آپ نے جواب دیا: میں نے اسی کو امیر بنایا ہے جس نے سب سے پہلے میری دعوت پر لبیک کہا۔ یہ تمام قائدانہ اوصاف سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن عاصرضی اللہ عنہم جیسے سبھی قائدین میں موجود تھے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے خطوط میں اللہ تعالیٰ، قائدین لشکر اور افواج کے حقوق کا ذکر اللہ تعالیٰ کے حقوق: عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے قائدین اور لشکر کو اپنے خطوط اور نصائح میں حقوق اللہ کے التزام کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے تھے ان حقوق میں اہم ترین یہ ہیں: ۱: دشمن کے مقابلے میں صبر و ثبات کا مظاہرہ کرنا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (200)(آل عمران: ۲۰۰) ’’اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لیے تیار رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو۔‘‘ چنانچہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو محاذ عراق پر بھیجا تو خط کے ذریعہ سے ان کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا: ’’ہر عادت کی ایک خصوصیت ہوتی ہے اور خیر کی خصوصیت صبر کرنا ہے، اس لیے اگر تمہیں کوئی پریشانی لاحق ہو یا کسی مصیبت سے گزرو تو صبر کرو، اس سے تمہارا دل اللہ کی خشیت سے بھر جائے گا۔‘‘ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھی جب کہ وہ شام میں تھے یہی نصیحت کرتے ہوئے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کی وجہ سے ایک قوم کی تعریف کی ہے۔ ارشاد ہے: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ