کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 766
نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا، اب رومی فوج کے سامنے اپنی اپنی کشتیوں میں بھاگ کر پناہ لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا، وہ جونہی بھاگے، پیچھے سے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا ان میں سے اکثر تہ تیغ کر دیے گئے، الا یہ کہ جو کشتیوں سے بھاگ نکلے، شہر میں موجود سامان و جائداد کو مسلمانوں نے مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔ طرابلس سے نمٹنے کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو قرب وجوار کے علاقوں میں پھیلا دیا۔ آپ کا ارادہ تھا کہ مغرب کی سمت فتوحات مکمل کر کے تیونس اور افریقہ کا رخ کریں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا۔ جب کہ عمر رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کو نئے محاذ پر بھیجنے سے ہچکچاتے تھے اور خاص طور پر ایسی حالت میں جب کہ شام سے طرابلس تک تیزی سے فتوحات کے باعث مفتوحہ علاقوں کی طرف سے ابھی آپ بالکل مطمئن نہ ہوئے تھے۔ اس لیے آپ نے اسلامی لشکر کو طرابلس میں ٹھہر جانے کا حکم دیا۔ اس طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ دور دراز علاقوں کی سرحدوں کو چھونے لگا۔ اسلامی سلطنت مشرق میں دریائے جیحون اور دریائے سندھ سے لے کرمغرب میں افریقہ کے صحراؤں تک اور شمال میں ایشیائے کوچک کے پہاڑوں اور آرمینیہ سے لے کر جنوب میں بحر الکاہل اور نوبہ تک ایک عالمی ملک کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی، جس میں مختلف اقوام، ادیان وملل اور تہذیب و تمدن نے زندگی پائی اور سب نے اسلام کے سایۂ عدل ورحمت میں امن وسکون کی زندگی گزاری۔ وہ دین اسلام جس نے اپنے عقائد وعبادات اور تہذیب و تمدن کے مخالفین کو ہزاروں مخالفتوں کے باوجود اس دنیا میں مکمل حقوق عطا کیے اور ان کی زندگی کا پورا پورا احترام کیا۔