کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 758
’’تم مصر فتح کرو گے، وہ ایسی سر زمین ہے کہ جہاں قیراطکا رواج ہوگا جب تم اسے فتح کرو تو وہاں کے لوگوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ تم پر ان کا حق ہے اور رشتہ بھی۔ یا آپ نے فرمایا: اس لیے کہ ان کا حق بھی ہے اور سسرالی رشتہ بھی۔‘‘ ان دونوں نے یہ سن کر کہا: یہ بہت دور کا رشتہ ہے اسے انبیاء ہی پورا کر سکتے ہیں، ہمیں جانے دیجیے اور ہم لوٹ کر آپ کو بتائیں گے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ جیسے لوگ دھوکا نہیں دیے جا سکتے، جاؤ میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں، اچھی طرح معاملہ پر غور کر لو۔ دونوں نے کہا: ایک دن کی اور مہلت دے دیں۔ آپ نے مزید ایک دن کا موقع دیا۔ دونوں لوٹ کر قبطیوں کے سردار مقوقس  اور شاہ روم کی طرف سے مصر کے حاکم ارطبون کے پاس آئے اور مسلمانوں کی بات ان کے سامنے رکھی، ارطبون نے ماننے سے انکار کر دیا اور جنگ کا پختہ ارادہ کر کے راتوں رات مسلمانوں کی فوج پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں نے اسے اس کے لشکر سمیت اسکندریہ تک شکست دی۔ اس جنگی کش مکش کے دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش ایا جو مسلمانوں کی دانش مندی اور اخلاقی برتری کی دلیل ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ جب بلبیس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی تو اس میں ’’مقوقس‘‘ کی لڑکی گرفتار ہوئی جس کا نام ’’ارمانوسہ‘‘ تھا، وہ اپنے باپ کی چہیتی بیٹی تھی، اس کا باپ قسطنین بن ہرقل سے اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔ یہ وہی قسطنین ہے جو معرکہ ذات الصواری میں رومی افواج کا قائد تھا، ارمانوسہ اس سے شادی کرنے پر راضی نہ تھی، اسی لیے وہ اپنی خادمہ ’’ربارہ‘‘ کے ساتھ سیر و تفریح کے بہانے بلبیس بھاگ آئی۔ بہرحال جب اسلامی فوج نے اسے گرفتار کیا تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام کی ایک مجلس بلائی اور انہیں اللہ کا یہ فرمان سنایا: ﴿هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (60)(الرحمن: ۶۰) ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔‘‘ اور اس آیت کے حوالے سے کہا کہ مقوقس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ بھیجا تھا، میری رائے ہے کہ اس لڑکی اور اس کے ساتھ جو دیگر خواتین اور اس کے خدمت گزار ہیں اور جو مال ہمیں ملا ہے سب کچھ مقوقس کے پاس بھیج دو۔ سب نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی رائے کو درست قرار دیا۔ پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ارمانوسہ کو اس کے تمام جواہرات، دیگر خواتین اور خدمت گذاروں کے ساتھ نہایت عزت واحترام سے اس کے باپ کے پاس بھیج دیا، واپس ہوتے ہوئے اس کی خادمہ ربارہ نے ارمانوسہ سے کہا: ہم ہر طرف سے عربوں کے گھیرے میں ہیں۔ ارمانوسہ نے کہا: میں عربی خیمے میں جان اور عزت کو محفوظ سمجھتی ہوں، لیکن اپنے باپ کے قلعے