کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 745
جگہ واپس آگئے، اپنے ساتھیوں کو لڑنے مرنے پر جوش دلایا اور اپنے ساتھ اتنا بڑا ہجوم لے کر حملہ کرنے کے بعد بھی نامراد لوٹنے پر کافی حیرت و تعجب کا اظہار کیا اور کہا: ’’اے اسلام کے پاسبانو! میں بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے نقباء میں سب سے کم عمر تھا، لیکن مجھے سب سے لمبی عمر ملی، اللہ نے میرے حق میں فیصلہ کیا کہ مجھے زندہ رکھا، یہاں تک کہ آج یہاں تمہارے ساتھ اس دشمن سے لڑ رہا ہوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مومنوں کی جماعت لے کر جب بھی مشرکوں کی جماعت پر حملہ کیا انہوں نے ہمارے لیے میدان خالی کر دیا اور اللہ نے ان پر ہمیں فتح دی۔ کیا بات ہے کہ تم نے ان پر حملہ کیا اور ان کو ہٹا نہ سکے۔‘‘ پھر ان کے بارے میں آپ کو جو اندیشہ لاحق تھا اسے ان لفظوں میں بیان کیا: ’’مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا اندیشہ ہے، یا تو تم میں کوئی خائن ہے یا جب تم نے حملہ کیا تو مخلص نہیں تھے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے انہیں صدق دل سے شہادت مانگنے کی تلقین کی اور کہا کہ میں تم میں سب سے پیش پیش رہوں گا اور ہرگز پیچھے نہ ہٹوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فتح سے نواز دے یا شہادت کی موت عطا فرمائے۔ چنانچہ جب رومی اور مسلمان آپس میں ٹکرائے تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے سے کود کر پیدل ہوگئے، عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے آپ کو پیدل دیکھا تو امیر لشکر کے پیدل لڑنے کی بات مسلمانوں میں عام کر دی اور کہا کہ سب لوگ انہی کی طرح ہو جائیں۔ چنانچہ سب نے رومیوں سے زبردست معرکہ آرائی کی اور انہیں پست کر دیا بالآخر وہ بھاگ کر شہر میں قلعہ بند ہوگئے۔ د: معرکہ مرج الصفر میں ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا : ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، عکرمہ شام کے معرکوں میں سے کسی معرکہ میں شہید ہوگئے تھے۔انہوں نے چار ماہ دس دن عدت گزاری، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما انہیں پیام نکاح دیتے اور خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بھی ان سے نکاح کے خواہاں تھے، ام حکیم نے خالد کا پیغام نکاح قبول کر لیا اور ان سے شادی کر لی۔ خالد رضی اللہ عنہ اجنادین، فحل اور مرج الصفر کے معرکوں میں برابر کے شریک تھے، چنانچہ جب مسلم فوج مرج الصفرمیں اتری تو خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے ام حکیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت چاہی، ام حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اگر ان لشکروں کے پست ہو جانے تک آپ خلوت کو موخر کر دیتے تو بہتر ہوتا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ آج میں انہی لشکروں میں شہید ہو جاؤں گا۔ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر تو آپ کی مرضی۔ چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ نے مرج الصفر کے ایک پل کے پاس شب زفاف منائی اور اسی وجہ سے تاریخ میں اس کا نام ’’ام حکیم کا پل‘‘ پڑ گیا، صبح ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ولیمہ کیا، سب کو کھلایا اور جب سب لوگ کھا کر فارغ ہوئے تو دیکھا کہ روم کی فوج اپنی صفوں کو درست کر چکی ہے۔ مسلمانوں میں سے خالد بن سعید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور جاں فروشی