کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 74
کے راستوں کی حد بندی کرتی، اور اسے بدشگونی وفال بازی کے چٹیل میدانوں میں سرگرداں رکھتی۔ اور نہ موت کے بعد عدم محض کا تصور باقی رہا۔  یہ تمام چیزیں ختم ہوگئیں اور اس کی جگہ صرف اللہ واحد پر ایمان لانے کا عقیدہ تھا، جو اس کے ساتھ شرک، اس کے لیے اولاد، کہانت اور دنیوی زندگی کے بعد عدم محض کے تصور سے بالکل پاک وصاف تھا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ اس آخرت پر ایمان مکمل ہوجائے، جہاں آکر جزا کے ایک نظام کے تحت انسان کا عمل ختم ہوجاتا ہے۔ جاہلیت کا وہ کھلواڑ ختم ہوا جس میں دنیوی زندگی کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے، اور روز جزاء کے مالک کے سامنے کسی جواب دہی کا کوئی تصور نہ تھا، اس بے مقصد اور غیر معقول عقیدہ کو آخرت کے دن پر ایمان، اور روز جزاء میں جواب دہی کی ذمہ داری نے پیچھے دھکیل دیا۔ اس طرح عمر رضی اللہ عنہ مکمل طور پر دین اسلام میں داخل ہوگئے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوگئے، اور اس کامل تصور سے عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کہ گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔  عمر رضی اللہ عنہ نے قرآنی تعلیمات کے مطابق تربیت پائی، اور اللہ تعالیٰ کے بے کراں فیضان وتوفیق کامل کی وجہ سے قرآنی زندگی کے ساتھ اسلامی شریعت وآداب اور تاریخ وحکمت کی باتیں سیکھتے رہے، جس کا آپ کے دل ودماغ اور نفس وروح پر اثر رہا۔ اور اس زندگی کے اثرات ونتائج بھی آپ کے اعضاء وجوارح پر نمایاں رہے۔ درحقیقت توفیق الٰہی کے بعد ان اثرات وکردار کا اہم سبب یہ تھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا۔  قرآنِ کریم کی موافقت، اسباب نزول پر خصوصی توجہ، اور بعض آیات کی تفسیر: (۱) قرآنِ کریم کی موافقت: عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نامانوس عمل کو صادر ہوتا دیکھتے تو پوچھ لیتے، مکمل صداقت اور صاف گوئی کے ساتھ اپنی رائے ظاہر کرتے، آپ کے کمال دانائی اور قرآنِ کریم کے مقاصد پر عبور ونکتہ فہمی کی یہ اہم دلیل ہے کہ بعض مواقع پر آپ کے نظریہ اور رائے کی تائید کے موافق قرآنِ مجید کا نزول ہوا۔ عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے اللہ تعالیٰ کی تین چیزوں میں موافقت کی… یا(یہ الفاظ ہیں) میں نے اپنے ربّ کی تین چیزوں میں موافقت کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اگر آپ مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں تو بہتر ہوگا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم نازل کر دیا۔ اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے پاس نیک اور بد سبھی لوگ آتے ہیں، لہٰذا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین کو پردہ کرنے کا حکم دے دیتے تو بہتر ہوتا۔ تو اللہ نے پردہ سے متعلق آیات نازل فرما دیں۔ اور مجھے خبر ملی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کی سرزنش کی ہے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: اگر تم اپنی حرکت سے باز آجاؤ (تو بہتر ہے) ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو