کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 725
کی طرف سے کوئی امدادی فوج دمشق میں نہ آسکے۔ * جنگ یرموک کے بعد اسلامی فوج کی تعداد کل چالیس ہزار (۴۰۰۰۰) تھی۔ یہ نہایت منظم فوج تھی اور یرموک کی فتح یابی کے بعد خوب اچھی طرح روحانی قوت سے مسلح ہوچکی تھی۔ * بیس ہزار (۲۰۰۰۰) اسلامی افواج نے دمشق کا محاصرہ کیا اور باقی بیس ہزار (۲۰۰۰۰) ’’فحل‘‘ بھیج دی گئی تاکہ اس علاقہ سے دشمن کی در اندازی روکی جا سکے، اور ضرورت پڑنے پر انہیں ’’فحل‘‘ سے بلا کر دمشق کے محاذ پر بھی لگایا جا سکے۔ ۲: دمشق کا محل وقوع اور ماحول: دمشق اس دور کا ایک بڑا شہر تھا، اس کا نام اس کے موسس ’’دمشاق بن کنعان‘‘ کے نام پر رکھا گیا ہے، یہ شاہان مصر کے اٹھارویں خاندان کے عہد حکومت میں مصر کا محکوم ہوگیا تھا، یہ تاریخ کا ایک قدیم ترین شہر تھا، ابتدا میں یہ بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا، لیکن جب مسیحیت آئی تو اس کے بت کدے کو کلیسا بنا دیا گیا۔ اپنے حسن ووقار کے لحاظ سے انطاکیہ کے کلیسا کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی دوسرا کلیسا اس کا جواب نہ تھا۔ دمشق کے جنوب میں ’’بلقاء‘‘ کی سبزہ زار زمین اور شمال میں ’’جولان‘‘ کی پہاڑیاں تھیں، جن کے بیچ بیچ شادابیاں ، لہلہاتی کھیتیاں اور شور مچاتے چشمے نظر آتے تھے۔ یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا، یہاں عرب آباد تھے اور مسلمانوں کے تجارتی قافلے یہاں آتے تھے اور اسی وجہ سے انہیں یہاں کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ دمشق ایک فصیل بند شہر تھا، حفاظت وپائیداری کی حیثیت سے اسے امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ اس کی فصیل بڑے بڑے پتھروں سے بنائی گئی تھی، فصیل کی بلندی چھ میٹر اونچی تھی، اس میں انتہائی مضبوط دروازے لگائے گئے تھے، اس کی چوڑائی تین میٹر کشادہ تھی۔ ہرقل نے دمشق سے فارسی حکومت کے حملے کے بعد شہر پناہ کو مزید مستحکم کر دیا تھا۔ دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کیے جاتے، فصیل کے چاروں طرف گہری تین میٹر چوڑی خندق تھی، جس کو دریائے بردی کے پانی سے ہمیشہ بھرا رکھا جاتا تھا اور یہ دریا اسی کے لیے وقف تھا۔ اس طرح دمشق کافی مضبوط ومحفوظ کی حیثیت رکھتا تھا جس میں داخل ہونا آسان نہ تھا۔ اس مقام پر ہم اچھی طرح یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ شہر دمشق کی حفاظت کے لیے رومیوں کی دفاعی تدبیریں کس قدر مضبوط ومستحکم تھیں۔ ان کی یہ مستحکم دفاعی تدبیریں ہمیں چند اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہیں: * دمشق کے چاروں طرف کسی جلد بازی میں یہ دفاعی تیاریاں نہیں کی گئی تھیں، بلکہ ایک طویل زمانہ سے اس میں یہ تمام دفاعی اسباب مہیا تھے، کیونکہ زمانہ قدیم ہی سے دمشق کو اپنے محل وقوع اور دیگر کئی اعتبار سے کافی