کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 724
۱: طرفین کی افواج : رومی افواج: سالار اعظم: ہرقل امیر دمشق: نسطاس بن نسطورس دمشق کی فوج کا کمانڈر جنرل: باہان، جس نے یرموک میں شرکت کی تھی اور وہاں سے بھاگ کر یہاں آیا تھا، اس کا نام وردیان تھا۔ دمشق میں موجود رومی افواج کی تعداد ساٹھ ہزار (۶۰۰۰۰) جنگجو اور ’’حمص‘‘ سے مزید بیس ہزار (۲۰۰۰۰) احتیاطی فوج کی آمد کی توقع، جن کا مقصد ہوگا دفاعی پٹی کو مستحکم بنانا اور چالیس ہزار (۴۰۰۰۰) جنگجو جنگ کے ابتدائی مرحلے میں پیش پیش رہنے والے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی جنگی پالیسی کو نہایت مفید ومستحکم بنانے کے لیے دمشق کو نہ چھوڑا، تا کہ اس کی عظیم الشان عمارتوں، قلعوں اور بلند ومضبوط فصیلوں سے فائدہ اٹھاسکیں۔ ساتھ ہی اس امدادی فوج کے منتظر تھے جو ہرقل کی طرف سے آکر آغاز جنگ کی ابتدائی کارروائی کرتی۔ فحل میں رومی فوج کو اپنوں کا تعاون مل ہی رہا تھا، مزید ان کے ساتھ یرموک کی ہزیمت خوردہ وہ فوج بھی تھی جس کی معنوی قوت جواب دے چکی تھی، اعصاب شکست خوردہ تھے اور فرار کے علاوہ ان کے سامنے کوئی راستہ نہ تھا، گویا وہ پست ہمت اور بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ اسلامی افواج: * سالار اعظم: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ۔ * بلاد شام کے جنگی اکھاڑوں کے کمانڈر جنرل: ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ۔ * ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دمشق سے لے کر بیسان تک کے راستوں پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے مناسب فوج کے ساتھ جس کی تعداد بالضبط نہیں بتائی جا سکتی دس کمانڈروں کو روانہ کیا اور ان سب کا اعلیٰ جنرل ابوالاعور السلمی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، گزشتہ زمانے کا بیسان آج ’’فحل کے کھنڈر‘‘ سے جانا جاتا ہے۔ * ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کئی فوجی دستے بنا کر علقمہ بن حکیم اور مسروق رضی اللہ عنہما کی قیادت میں فلسطین کی سمت میں الگ الگ مقامات پر انہیں متعین کر کے مغرب اور جنوب سے رومی کارروائی کے خطرات سے خود کو محفوظ کر لیا۔ * ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ذوالکلاع کی قیادت میں ایک فوجی دستہ دے کر انہیں شمالی دمشق میں حمص اور دمشق کو جوڑنے والی سڑک کی نگرانی پر مامور کیا، تاکہ یہ علاقہ دشمن کے خطرات سے محفوظ ہو جائے اور روم