کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 711
دنیائے انسانیت کو اسلام کی خوبیوں اور عدل ورحمت کی روشنی دکھائی۔ فتوحات عراق وبلاد مشرق میں اللہ کی سنتوں کا ظہور فتوحات عراق اور بلاد مشرق (عجم) کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے والا ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ اللہ کی بعض سنتیں ہیں جن کا ظہور انسانی سماج اور رعایا، حکام اور حکومتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ ان الٰہی سنتوں کا مختصر بیان یوں ہے: ۱: اسباب ووسائل کا استعمال: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (60)(الانفال: ۶۰) ’’اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کر سکو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو ڈراؤ گے، جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس آیت کے وسیع مفہوم اور تقاضوں کو بالکلیہ نافذ کیا اور اس وقت کے تمام تر مادی ومعنوی اسباب کو استعمال کیا، جیسا کہ پچھلے مباحث میں ہم نے دیکھ لیا۔ ۲: تدافع (ایک گروہ کے ذریعہ سے دوسرے گروہ کو ہٹانے) کا قانون الٰہی : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللّٰهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (251)(البقرۃ: ۲۵۱) ’’اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ہٹانا نہ ہوتا تو یقینا زمین برباد ہو جاتی اور لیکن اللہ جہانوں پر بڑے فضل والا ہے۔ ‘‘ ہمیں یہ سنت الٰہی عموماً تمام فتوحات میں نظر آتی ہے، ایک فرد، گروہ اور حکومت کے ذریعہ سے دوسرے فرد، گروہ اور حکومت کو ہٹانے کی یہ سنت الٰہی کائنات میں اللہ کے اہم اور عظیم اصولوں میں سے ایک ہے، اس کا تعلق امت اسلامیہ کو غلبہ واقتدار دینے سے ہے۔ امت مسلمہ کے ہر اول دستے نے اس الٰہی سنت کے ہمہ جہت