کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 704
ہدایت کے مطابق اپنے مقام پر عمل کیا اور اللہ نے انہیں دشمن اور ان کے ملکوں پر فتح دی۔ فتح کرمان و سجستان ۲۳ ہجری: ۲۳ ہجری میں سہیل بن عدی رضی اللہ عنہ کرمان کی مہم پر گئے اور اسے فتح کیا۔ بعض راویوں کے نزدیک اسے عبداللہ بن بدیل بن ورقاء الخزاعی رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔جب کہ بعض مؤرخین کے نزدیک عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں شدید جنگ کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔ کرمان کی سرحدیں کافی وسیع تھیں اور اس کی آبادیاں سد سے دریائے بلخ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہاں کی سرحدوں سے یہ لوگ قندھار اور ترک سے بھی نبرد آزمائی کر رہے تھے۔ فتح مکران ۲۳ہجری: ۲۳ہجری میں حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مکران فتح ہوا، شہاب بن مخارق نے بھی ان کی مدد کی، پھر سہیل بن عدی اور عبداللہ بن عبداللہ بن عتبان رضی اللہ عنہما بھی ان کی مدد کو آپہنچے اور سب نے متحد ہو کر شاہ سندھ کے خلاف محاذ آرائی کی۔ اللہ نے لشکر سندھ کو ہزیمت کا منہ دکھایا اور مسلمانوں کو ان سے کافی مال غنیمت ہاتھ آیا۔ حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کے خمس اور فتح کی بشارت کے ساتھ صحار بن عبدی کو دربار خلافت روانہ کیا، جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ نے مکران کے حالات پوچھے۔ انہوں نے نہایت مقفیٰ مسجع عبارت میں کہا: اے امیرالمومنین! وہاں کا میدانی علاقہ پہاڑوں کا بھرم، پانی بہت کم، کھجوریں بے کار، دشمن بہادر و ہوشیار، بھلائی قلیل، برائی طویل، وہاں جو زیادہ ہے وہ کم ہے اور جو کم ہے وہ کالعدم ہے، اور جو علاقہ اس کے بعد ہے، وہ اس سے بھی برا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم شعر کہہ رہے ہو یا خبر دے رہے ہو۔ صحار نے کہا: خبر دے رہا ہوں۔ پھر آپ نے حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ مکران سے آگے نہ بڑھیں اور دریا پار نہ کریں۔ کردوں سے جنگ: کردوں کی ایک جماعت کے ساتھ فارسیوں نے اتحاد کر کے مسلمانوں کے خلاف محاذ تیار کیا۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ’’نہرتیرے‘‘ کے قریب ’’بیروذ‘‘ کی سر زمین سے ان کا مقابلہ کیا۔ پھر وہاں سے خود اصفہان کی مہم پر روانہ ہوئے اور ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ کے بھائی مہاجر بن زیاد کی شہادت کے بعد ربیع کو وہاں کی جنگ کی باگ ڈور سونپ دی، انہوں نے جنگ کی قیادت سنبھالی اور دشمن کی ناک میں دم کر دیا اور آخر میں اللہ نے سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین اور اپنے نیکوکار و فرماںبردار بندوں کو اپنی سنت وعادلانہ نظام کے مطابق دشمنوں پر فتح عطا