کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 696
(۴) مشرق میں فتوحات کے دروازے کھل جانا فتح نہاوند کے بعد ایرانیوں کی قوت جواب دے گئی اور مسلمان دربار خلافت سے اجازت پانے کے بعد بلاد عجم میں گھستے چلے گئے، نہاوند کے بعد اصفہان کا ایک شہر ’’جی‘‘ کافی مزاحمت اور شدید معرکہ آرائی کے بعد فتح ہوا۔ وہاں کے باشندوں نے آخر مسلمانوں سے صلح کر لی اور عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصالحت کے بعد امان دے دی۔ ان میں سے تیس ہزار (۳۰۰۰۰) ایرانی ’’کرمان‘‘ بھاگ گئے اور صلح کے لیے راضی نہ ہوئے۔ ۲۱ہجری میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ’’قم‘‘ اور ’’قاشان‘‘ کو اور سہیل بن عدی رضی اللہ عنہ نے شہر ’’کرمان‘‘ کو فتح کیا۔ ہمدان پر دوسری فتح ۲۲ھ میں: یہ بات گزر چکی ہے کہ جب مسلمان فتح نہاوند سے فارغ ہوئے تھے تو حلوان اور ہمدان کو فتح کر لیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد ہمدان والوں کی قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے جو مصالحت ہوئی تھی اسے انہوں نے توڑ دیا، نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے ہمدان والوں پر چڑھائی کرنے کے لیے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ نعیم رضی اللہ عنہ نے ’’ثنیۃ العسل‘‘ میں پڑاؤ ڈالا، پھر نشیبی علاقہ سے ہوتے ہوئے ہمدان والوں پر چڑھائی کی اور ان کو گھیرے میں لے کر محاصرہ کر لیا۔ ہمدان والوں نے دوبارہ مصالحت کی پیش کش کی اور امان مانگی۔ آپ نے مصالحت منظور کر لی اور شہر میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے۔ ابھی آپ اپنے ساتھ بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) مجاہدین کی فوج لے کر اندر گھس رہے تھے کہ دیلم نے اے اور آذربائیجان والوں سے خط و کتابت کر کے انہیں نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ کے خلاف بھاری فوج کے ساتھ حملہ کرنے پر ابھارا، نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے دیلم کی اس تحریک کی خبر پاتے ہی اپنے ساتھ فوج کو لیے ہوئے اپنی پیش قدمی جاری رکھی ’’واج الروذ‘‘ میں پہنچ کر دیلم اور ان کے اتحادیوں سے مقابلہ ہوا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی، جنگ کی شدت جنگ نہاوند کے مساوی تھی۔ مسلمانوں نے کافروں کی لا تعداد لاشیں گرائیں۔ دیلم کا بادشاہ بھی قتل ہو گیا، ان کی جماعت تتر بتر ہوگئی اور بہت سی جانیں گنوانے کے بعد سب نے شکست کھائی۔ مسلمانوں میں سے نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے دیلم پر وار کیا تھا اور انہوں نے ہی عمر رضی اللہ عنہ کو دیلم کی اتحادی تحریک سے آگاہ کیا تھا۔ یہ خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ فکر مند رہنے لگے تھے۔ لیکن فتح کا مژدہ سنانے والے نے یکا یک