کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 68
الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الاعراف:۵۴) ’’بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (پیدا کیے) اس حال میں کہ اس کے حکم سے تابع کیے ہوئے ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ ٭ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات میں تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، ظاہر ہوں یا پوشیدہ: وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ (النحل:۵۳) ’’اور تمھارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمھیںتکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔‘‘ ٭ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ زمین اور آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ انسان کی ظاہری باتیں یا سربستہ راز اس سے پوشیدہ ہیں۔ ٭ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے انسانوں کے تمام اعمال کو تحریر کروا رہا ہے، ایسی کتاب میں تحریر ہورہا ہے جو نہ چھوٹے عمل کو چھوڑے گی اور نہ بڑے عمل کو۔ وہ کتاب مناسب موقع اور مناسب وقت پر کھل کر سامنے آئے گی: مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق:۱۸) ’’وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے ۔‘‘ ’’(انسان) منھ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار رہتا ہے۔‘‘ ٭ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان چیزوں سے آزماتا ہے جو ان کی مرضی اور پسند کے خلاف ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی حقیقت سامنے آجائے اور یہ واضح ہوجائے کہ ان میں کون شخص اللہ کی قضاو قدر سے راضی ہے، اور ظاہر وباطن میں اس کے سامنے سرنگوں ہے، تاکہ وہ خلافت، امامت اور سیاست کے لائق ہوجائے۔ اور کون شخص ہے جو اللہ کی قضاء وقدر سے خفا اور ناراض ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ کسی ذمہ داری کا اہل نہیں ہے۔ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ