کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 670
باتت تذکرنی باللّٰہ قاعدۃ والدمع ینہل من شأنیہا سبلا ’’وہ مجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہے، غم فرقت میں بیٹھ کر رات گذارتی ہے اور اس کے دونوں گوشہ ہائے چشم سے آنسوؤں کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے۔‘‘ یا بنت عمی کتاب اللّٰہ أخرجنی کرہا ، وہل أمنعن اللّٰہ ما بذلا ’’اے میرے چچا کی لڑکی، (سن لو!) کتاب الٰہی نے مجھے اس کے لیے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ اللہ نے مجھے جو کچھ نوازا ہے میں اسے اس کے راستہ میں لٹانے سے باز آنے والا نہیں۔‘‘ فإن رجعت فرب الناس أرجعنی وإن لحقت بربی فابتغی بدلا ’’اگر میں لوٹ آیا تو لوگوں کے رب نے مجھے لوٹایا اور اگر اپنے رب سے جا ملا تو اس سے سرفروشی کے ثواب کا طالب ہوں۔‘‘ ما کنت أعرج أو أعمی فیعذرنی او ضارعا من ضنی لم یستطع جولا ’’میں لنگڑا، اندھا یا بیماری کی وجہ سے لاغر نہیں ہوں کہ وہ ناتواں مان کر مجھے معذور سمجھے۔‘‘ فتح مدائن: سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قادسیہ میں دو مہینے ٹھہرے رہے اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے۔ پھر امیرالمومنین کا قاصد آپ کے پاس حکم لے کر آیا کہ فتح مدائن کے لیے آگے بڑھیں، عورتوںاور بچوں کو عتیق میں معتدبہ افواج کے سپرد کردیں وہ ان کی دیکھ بھال کریں گے اور آئندہ جو کچھ بھی مال غنیمت ہاتھ لگے اس میں سے نگرانی کے عوض ان مجاہدین کو بھی پورا پورا حصہ دیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور ماہ شوال کے آخری ایام میں اسلامی فوج لے کر آگے بڑھے۔ ادھر فارس کی شکست خوردہ بچی کھچی فوج بھاگ کر بابل کے کھنڈروں میں پناہ لے چکی تھی اور اب بھی اس کے کچھ سردار دفاعی کارروائی کا عزم کیے ہوئے تھے۔ حالانکہ فارسی (ایرانی) سلطنت کا زوال یقینی ہو چکا تھا اور گاؤں وشہر سے لے کر ساری بستیاں یکے بعد دیگرے اس کے ہاتھوں سے نکل رہی تھیں۔ مسلمانوں نے بُرس کو فتح کیا تھا۔ پھر دریائے فرات عبور کر کے بابل پر قبضہ کیا پھر کوثی اور پھر ساباط پر فتح کا پرچم لہرایا۔ کچھ علاقے بزور جنگ