کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 655
کثرت سے وہ رستم کو نہیں دیکھ سکے، رستم اپنا تخت چھوڑ کر سامان لدے ہوئے ایک خچر کی آڑ میں چھپ گیا، قعقاع رضی اللہ عنہ اس پر چڑھ گئے جس سے رستم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ قعقاع رضی اللہ عنہ اب تک نہ جان سکے تھے کہ رستم میرے نیچے ہے۔ رستم اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے اٹھ کر دریائے عتیق کی طرف بھاگا، لیکن ہلال نے اسے پکڑ لیا اور پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائے، پھر قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس کے تخت پر چڑھ کر بلند آواز سے کہا: رب کعبہ کی قسم! میں نے رستم کو قتل کر دیا، آؤ میری طرف آؤ! لوگ وہاں جمع ہوگئے، اس کی اور اس کے تخت کی خوب درگت بنائی اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے ایک دوسرے کو خوشی و مسرت سے بلانے لگے۔ اس طرح فارس کا قلب شکست کھا گیا، اور مسلمانوں کے دیگر سردار آگے بڑھتے رہے اور جو سامنے آتا اسے قتل کرتے۔ فارسی فوج پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ جب جالینوس کو رستم کے قتل کردیے جانے کی خبر ملی تو دریائے عتیق میں بنائے ہوئے بڑے بند پر کھڑا ہو کر فارسی فوج کو بھاگ نکلنے اور دریا عبور کر لینے کی دعوت دینے لگا، چنانچہ کچھ فوج نے دریا عبور کر لیا اور کچھ فوجی جن کی تعداد تیس ہزار تھی اور وہ زنجیروں کے گھیرے میں تھے، دریائے عتیق میں کودنے لگے اور مسلمانوں نے جم کر ان پر اس طرح تیر برسائے کہ کوئی زندہ نہ بچ سکا۔ ب: معرکہ کا اختتام: سب سے پہلے اللہ کے فضل و توفیق سے، پھر جاں باز مسلمانوں کی کوشش اور ان کے قائد اعلیٰ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حکمت سے معرکہ قادسیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ بڑا سخت و جاں گسل معرکہ تھا، دشمن بڑی ثابت قدمی سے تین دن تک مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے اور چوتھے دن اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کیا، جب کہ اس سے قبل عموماً ایک ہی دن میں مسلمان اپنے دشمنوں کو زیر کر لیتے تھے۔ دشمن کی اس قدر پامردی کا اہم سبب یہ تھا کہ وہ لوگ اس کو آخری معرکہ تصور کرتے تھے، وہ یہ عزم کر چکے تھے کہ یا تو فتح وغلبہ کے ساتھ اب ہماری حکومت باقی رہے گی یا شکست و رسوائی کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور اس کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ اسی طرح ان کی پامردی و ثابت قدمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس بار ان کی فوج کی قیادت رستم جیسا سالار اعظم کر رہا تھا، جس کی تاریخ فتح و غلبہ کے کارناموں سے بھری پڑی تھی۔ اس کے علاوہ فارسی فوج تعداد، اسباب جنگ اور اسلحہ میں بھی مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔ فارسی لشکر ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل تھا، جنگ نہ لڑنے والے دوسرے لوگ ان کے علاوہ تھے، نیز ان لوگوں کا اس میں شمار ہی نہیں جنہیں یزدگرد احتیاطی فوج کی شکل میں روانہ کرتا تھا۔ جب کہ ان کے بالمقابل اسلامی لشکر میں مسلمان فوج کی تعداد تیس ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔