کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 647
ولا تدفنی بالفلادۃ فاننی أخاف إذا ما مت الا أذوقہا ’’مجھے چٹیل میدان میں نہ دفن کرنا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد اس کا مزہ نہ چکھ سکوں۔‘‘ وتروی بخمر الحص لحدی فإننی أسیر لہا من بعد ما قد أسوقہا ’’زعفرانی شراب سے میری لحد کو تر کر دیا جائے، کیونکہ میں اس کا رسیا ہوں۔‘‘ دوسرے دن صبح ہوتے ہی سلمیٰ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ابو محجن رضی اللہ عنہ سے متعلق اپنی رواداری کی ساری روداد سنائی، سعد رضی اللہ عنہ نے ابو محجن رضی اللہ عنہ کو بلایا، قید سے آزاد کر دیا اور کہا: جاؤ اب میں تمہاری بات پر اس وقت تک مواخذہ نہیں کروں گا جب تک اسے کر نہ گزرو۔ ابو محجن رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا کبھی کسی بری خصلت کے سلسلہ میں اپنی زبان کی بات نہ مانوں گا۔ ص: لیلۃ السواد (سیاہ رات) کے نصف آخر میں قعقاع رضی اللہ عنہ کی جدید منصوبہ سازی: لیلۃ السواد کے نصف آخر میں جو سب سے اہم واقعہ پیش آیا وہ یہ کہ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے آنے والے دن میں مسلمانوں کی قوت اور عزم وحوصلے کو بلند کرنے کے لیے جدید جنگی منصوبہ سازی شروع کر دی۔ اپنے مجاہدین کو حکم دیا کہ اسی وقت خفیہ طریقے سے میدان کار زار سے کافی پیچھے جا کر چھپ جاؤ اور ایک ایک سو مجاہدین کا الگ الگ دستہ بنا کر دن میں میدان کی طرف بڑھو۔ ان سے کہا کہ جب سورج طلوع ہو جائے تو سو مجاہدین پر مشتمل ایک دستہ میدان جنگ کی طرف بڑھے اور اس کے پیچھے دوسرا دستہ اس وقت تک آگے نہ بڑھے جب تک کہ پہلا دستہ نگاہوں سے غائب نہ ہو جائے۔ اس وقت تک اگر ہاشم بقیہ امدادی کمک لے کر پہنچ جاتے ہیں تو بہتر ورنہ تمہاری اس منصوبہ بندی سے مسلمانوں کی امیدیں نہ ٹوٹنے پائیں گی۔ چنانچہ جب سورج کی پہلی کرن نظر آئی تو قعقاع رضی اللہ عنہ نے میدان جنگ سے صحرا کی طرف نظر اٹھائی، شہ سوار مجاہدین کا دستہ آتے دیکھا تو زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا، جسے لوگوں نے بھی دہرایا اور مسلمانوں کے لشکر میں ’’مدد آگئی، مدد آگئی‘‘ کا شورمچ گیا۔ قعقاع رضی اللہ عنہ کے بھائی عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے بھائی کے طریقے پر عمل کیا اور اپنے ساتھیوں کو اسی طرح کرنے کا حکم دیا۔ پھر تمام مجاہدین نے خفان کی طرف سے میدان میں آنا شروع کیا۔ قعقاع رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کا آخری دستہ ابھی میدان کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ شام سے سات سو تازہ دم مجاہدین لے کر پہنچ گئے۔ قعقاع رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے ہاشم رضی اللہ عنہ کو قعقاع رضی اللہ عنہ کی رائے اور دو دن کی ان کی جنگی تدبیر سے آگاہ کیا۔ ہاشم رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ساتھ آئی ہوئی فوج کو ستر ستر افراد کے الگ الگ دستوں میں تقسیم کر دیا۔ جب قعقاع رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کا آخری دستہ