کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 616
کے گھوڑے ہوں گے، رسالے ہوں گے اور پیادہ پامسلح طاقت ہوگی۔ اگر دشمن کے اس حملہ پر تم نے صبر کیا، ثواب کی خاطر سچے دل سے لڑائی لڑی اور پوری امانت داری برتی تو مجھے امید ہے کہ تمہیں فتح ملے گی۔ دشمن شکست کھا کر پھر کبھی اتنی بڑی تعداد میں مقابلہ نہ کر سکے گا اور اگر کیا بھی تو اس کے حوصلے پست ہوں گے اور اگر تمہاری شکست ہوتی ہے تو صحراء (عرب) تمہارے عقب میں ہو گا، تم آبادی سے ہٹ کر اپنے صحرائی علاقہ کی طرف پلٹ سکو گے اور چونکہ تم اس علاقہ کے بارے میں دشمن سے زیادہ واقف ہوگے، لہٰذا وہاں پہنچ کر تمہاری ہمتیں بھی بلند ہوں گی اور وہ دہشت زدہ و بزدل ہوں گے۔‘‘ اسلامی لشکر کے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ کے انتخاب سے متعلق عمر رضی اللہ عنہ کی یہ ہدایت مثنی رضی اللہ عنہ کی اس وصیت کے عین مطابق ہے جو انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کی تھی۔ جگہ کے انتخاب کے بارے میں عمر اور مثنی رضی اللہ عنہما کی رائے یکساں تھی، مثنی رضی اللہ عنہ کی نصیحت درحقیقت فارسیوں کے خلاف ان کی تین سالہ جنگی مہارت کا نتیجہ تھی۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ ہدایت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ کو جنگی منصوبہ سازی میں مہارت وکمال حاصل تھا حالانکہ سرزمین عراق پر ابھی آپ کے قدم بھی نہ پڑے تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ کے نام فاروقی پیغام اس بات کو بھی متضمن ہے کہ لشکر کو ہمیشہ دشمن کی گرفت سے دور رکھنا چاہیے اور دشمن پر ترکتاز حملے کرنے چاہیے جو ان کی زندگی کو اجیرن کر دے، اس کے ماتحتوں کو اپنوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دے تاکہ مسلمان انہیں اپنی پسند کی زمین میں لا سکیں۔  ۸: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں فتح ونصرت کے معنوی اسباب: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر انہیں فتح و نصرت کے معنوی اسباب سے خبردار کیا، جن کو اولیت اور اساسی حیثیت حاصل ہے۔ آپ نے خط میں تحریر فرمایا: ’’اپنے دل کی حفاظت واصلاح کرتے رہو، لشکر کو اخلاق وسچی لگن سے لڑنے اور جہاد کے ذریعہ سے ثواب حاصل کرنے کی تلقین کرو، جن کے دل میں جہاد کی حقیقی تڑپ نہ ہو ان میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے۔ صبر و ہمت سے کام لیتے رہو، کیونکہ جس مقدار میں نیت میں خلوص اور طلب ثواب کی تڑپ ہوتی ہے اسی مقدار میں اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے، اپنے ماتحتوں پر کسی قسم کی سختی وزیادتی سے بچتے رہنا، اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہ کرنا، اللہ سے سلامتی وعافیت کی دعا مانگو اور زیادہ سے زیادہ ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘پڑھا کرو، مجھے لکھو کہ تمہاری معلومات کے مطابق فارسی لشکر کہاں تک پہنچا ہے اور اس کا سپہ سالار کون ہے جو تم سے ٹکرائے گا۔ موقع ومحل اور دشمن کے حالات سے لا علمی کے باعث بہت سی باتیں جو میں لکھنا چاہتا تھا نہیں لکھ سکتا، اس لیے تم اسلامی