کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 608
* آپ نے یہ بھی فرمایا کہ: ’’اللہ کی خشیت اس کے احکامات کی اطاعت اور معاصی کے اجتناب سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘ پھر وضاحت کی کہ اللہ کی اطاعت پر ابھارنے والی سب سے بڑی چیز دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت ہے اور گناہوں پر اکسانے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی محبت اور آخرت سے نفرت ہے۔ * پھر آپ نے فرمایا کہ دلوں کے مخصوص حقائق اور حالتیں ہوتی ہیں کچھ کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے آپ نے بتایا کہ غصہ کی حالت ہو یا خوشی کی بہر صورت لوگوں کے ساتھ حق کا معاملہ کیا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ لوگوں کی تعریف وخوشامد حق کے نفاذ میں اور مجرم کو سزا دینے میں آڑے نہ آئے یا لوگوں کی زبان سے اس کی مذمت لوگوں پر ظلم ڈھانے اور انہیں حق سے محروم رکھنے کا سبب نہ بنے۔ * دل کے پوشیدہ حقائق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خیر کی علامت یہ ہے کہ مسلمان کے دل سے حکمت کی بات اس کی زبان پر آجائے اور اپنے مسلم بھائیوں کے درمیان وہ محبت و عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے، کیونکہ جب سچے مسلمانوں کی محبت و عزت اسے ملے گی تبھی اسے معلوم ہو گا کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ اس لیے کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بندوں کی نگاہوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ * اس مقام پر قابل غور بات یہ ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسی جنت کی بشارت یافتہ شخصیت کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ان گہر بار نصائح کی ضرورت تھی تو آج ہم جیسے مسلمانوں کو اس کی کتنی سخت ضرورت ہے؟ جب کہ ان کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور اس کی بجا آوری میں ہم کافی کوتاہ واقع ہوئے ہیں۔ ۳: عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خطبہ: سعد رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ چار ہزار اور ایک روایت کے مطابق چھ ہزار مجاہدین کا لشکر لے کر عراق روانہ ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ ’’صرار‘‘ سے ’’اعوص‘‘ تک آپ کو بھیجنے آئے، وہاں کھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کیا، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مثالیں بیان کی ہیں اور تمہارے لیے اپنی بات کھول کھول کر بیان کر دی ہے تاکہ اس سے تمارے دلوں کو زندگی بخشے کیونکہ دل سینوں میں بے جان ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کر دے۔ جسے اچھے اور برے کاموں کا کچھ علم ہو وہ اس سے فائدہ اٹھائے، عدل کی کچھ کامل نشانیاں اور کچھ ابتدائی علامات ہیں، پس حیا، سخاوت، خاکساری اور نرمی کامل نشانیاں ہیں اور رحمت وشفقت ابتدائی علامات میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ کا ایک دروازہ (آغاز) بنایا ہے اور ہر دروازے کی کنجیاں میسر کی ہیں۔ عدل کا دروازہ عبرت حاصل کرنا ہے، اس کی چابی زہد ہے اور فوت شدگان کو یاد کر کے موت کی یاد تازہ کرنا اعمال صالحہ کے ذریعہ