کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 603
مثنی رضی اللہ عنہ خط پڑھ کر ذی قار میں ٹھہر گئے اور بصرہ کی سمت میں واقع غُضَی، جل اور شراف کے پہاڑیوں میں مسلمانوں کو پھیلا دیا اور صحرائے عراق کے اوّل سے آخر تک فرات کے ساحلی علاقوں میں اپنی افواج کو تقسیم کردیا، غضی کی پہاڑی سے لے کر قطقطانہ تک ہتھیار بند فوج کی ٹولیاں تھیں، ہر ایک دوسرے پر نگاہ لگائے ہوئے تھی تاکہ کسی بھی ناگہانی حالت میں ایک دوسرے کی مدد کی جا سکے۔ وہ سب فارس کی تازہ دم فوج پر گھات لگائے بیٹھے تھے اور دارالخلافہ کی طرف سے امدادی فوج کے منتظر تھے، جب کہ دوسری طرف کسریٰ کی فوجی سرحدی چوکیاں دوبارہ قائم ہو چکی تھیں۔ فارسی حکومت میں اقتدار کی جنگ ختم ہو چکی تھی اور وہ مسلمانوں سے مرعوب ہو چکے تھے اور مسلمان پورے جوش وخروش کے ساتھ دشمن کو دھاڑ رہے تھے جیسے کہ شیر اپنے شکاری پر غراتا ہے اور پھر پلٹ کر زور دار حملہ کرتا ہے اور ان کے امراء وقائدین سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی تحریر کے بموجب اور امدادی فوج کے انتظار میں انہیں آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔ یہ واقعہ ذی القعدہ ۱۳ ہجری مطابق جنوری ۶۳۵ء کے آخری ایام میں پیش آیا، اسی موقع پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ: ’’اللہ کی قسم میں شاہان عجم کو ملوک عرب سے ٹکرا کر رہوں گا۔‘‘ پھر آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ ذی الحجہ میں جب حجاج مکہ آرہے تھے تو آپ نے تمام اضلاع میں اپنے افسران کے نام پیغام بھیجا کہ ہر قبیلے کے لوگ دربار خلافت پہنچیں، چنانچہ مکہ، مدینہ اور عراق کے راستوں پر جو قبائل آباد تھے وہ سب سے پہلے حج سے واپس ہوتے ہی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ آپہنچے اور بتایا کہ ہمارے پیچھے بھی لوگ جوق در جوق آرہے ہیں اور جو لوگ عراق کے زیادہ قریب تھے وہ مثنی رضی اللہ عنہ سے جا ملے۔ اس موقع پر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فوجی تیاریاں اتنی زور شور سے شروع کیں کہ پوری اسلامی سلطنت کے مال داروں، دانش مندوں، شرفاء ، بزرگوں، بہادروں، خطیبوں اور شاعروں کو بلا بھیجا اور ان چنندہ افراد کو دشمن کی طرف روانہ کر دیا۔