کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 586
معرکہ جسر کے اہم دروس و عبر اور فوائد سچا خواب: ابوعبید رحمہ اللہ کی بیوی دومہ نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک آدمی شراب طہور سے بھرا ہوا برتن لے کر زمین پر آیا اور ابوعبید اور ان کے فرزند جبر نے خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ اسے نوش کیا۔ دومہ نے جب ابوعبید رحمہ اللہ سے یہ خواب بیان کیا تو انہوں نے اس کی تعبیر شہادت کی موت سے کی اور پھر ابوعبید رحمہ اللہ نے لوگوں سے کہا کہ اگر میں شہید کر دیا گیا تو آپ لوگ فلاں کو اپنا قائد بنا لیں۔ اس طرح اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے قبیلہ ثقیف کے ان سات لوگوں کو نامزد کیا جن کا ذکر ان کی بیوی نے اپنے خواب میں کیا تھا اور اگر سب کے سب شہید ہو جاتے ہیں تو قیادت مثنیٰ بن حارثہ کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ دو غلطیاں ہزیمت کا سبب بنیں: پہلی غلطی تو یہ کہ ابوعبید رحمہ اللہ نے عمائدین لشکر کی مخالفت کی، انہوں نے ابوعبید رحمہ اللہ کو دریا عبور کرنے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بات پر ڈٹے رہے، انہوں نے شجاعت و جانبازی کا ثبوت دیا اور شوق شہادت میں دریا پار کیا، لیکن معرکہ کا صحیح اور مکمل حساب نہ لگا سکے اور نہ جنگ کے لیے منتخب کردہ زمین کا ٹھیک ٹھیک جائزہ لے سکے۔تنگ میدان میں گھر جانے کی وجہ سے اب آپ کے ہاتھوں سے امن کا عنصر چھوٹ چکا تھا، نیز ہتھیار بند شہ سواروں کے میدان سے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے یہ موقع بھی ہاتھ سے گنوا چکے تھے کہ مختلف اسلحہ کے درمیان تعاون کا عنصر مفقود ہوگیا۔ آپ کی فوجی قوت صرف پیادہ پا مجاہدین تک محدود رہی اور انہیں ایرانی فوج کے مسلح فیل بانوں، شہ سواروں اور پیدل جنگ کرنے والوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس طرح اس معرکہ میں باصلاحیت وقیادت مفقود ہو کر رہ گئی، یہاں تک کہ مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کمان اپنے ہاتھ میں لی۔ جس طرح جگہ کی تنگ دامانی اسلامی فوج کے امن و امان کو غارت کرنے کا سبب بنی اسی طرح اس سے دوسرا نقصان یہ بھی ہوا کہ وہاں پورا کا پورا اسلامی لشکر اکٹھا نہیں ہو سکا اور چونکہ معرکہ کا محل وقوع جغرافیائی اعتبار سے کثیر فوجی تعداد کی اجازت نہ دیتا تھا اس لیے بڑی فوج تیار کرنے اور اسے وہاں اتارنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا۔ اسی طرح ابوعبید رحمہ اللہ سے جنگی ہدف کے انتخاب میں چوک ہوئی اور پھر اس کے ضمن میں معرکہ کے لیے نہ موزوں مقام منتخب کر سکے اور نہ وہاں تک پہنچنے کا مناسب راستہ۔ ان تمام مواقع کو انہوں نے خود گنوایا اور گنوایا ہی نہیں بلکہ دشمن کو اپنے اوپر حملہ کرنے کا موقع دیا۔ اور دوسری غلطی جس نے ابوعبید کی چُوک کو مزید سنگین بنا دیا وہ ایسی غلطی تھی جو نقصان اور مصائب و مشکلات