کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 572
۴: سیّدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات اور بستر مرگ پر فاروقی عظمت کا اعتراف: جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مرض الموت میں متلا ہوئے تو ان کے پاس ابودرداء رضی اللہ عنہ عیادت کرنے کے لیے گئے، سیّدناخالد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابودرداء! اگر عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو تم کئی ناپسندیدہ چیزیں اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میرا بھی یہی خیال ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کئی معاملات میں میں ان پر دل ہی دل میں بہت غصہ ہوا، لیکن اب اپنی اس بیماری میں جب اللہ کا فرشتہ عزرائیل میرے پاس آنے والا ہے میں نے ان معاملات میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے۔ جب آپ نے میرا مال تقسیم کرانے کے لیے ایک آدمی بھیجا تو اس نے میرا ایک جوتے کا جوڑا بھی تقسیم کر دیا ایک اور لے لیا اور دوسرا میرے لیے چھوڑا، لیکن انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جو اسلام میں سبقت کرنے والے تھے اور بدری صحابہ تھے۔ وہ مجھ پر سختی کرتے تھے اور دوسروں پر بھی میری ہی طرح سختی کرتے تھے۔ میں انہیں قرابت داری کا حوالہ دیتا تھا لیکن وہ اللہ کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت یا کسی رشتہ دار کی رشتہ داری کی پروا نہ کرتے تھے۔ ان کے اسی عمل کو دیکھ کر میرا غصہ جاتا رہا۔ وہ مجھ پر زیادہ ہی سختی کر رہے تھے اور یہ سب کچھ صرف فکر ونظر کے اختلاف کی وجہ سے تھا۔ میں جنگ میں ہوتا، مشکلات کو جھیلتا اور موقع کی نزاکت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور وہ موجود نہیں ہوتے تھے، وہ یہ سب نہیں جانتے تھے، اسی وجہ سے میں لوگوں کو نوازا کرتا تھا اور میری یہ چیز ان کی مخالفت کا سبب بنی۔‘‘ اور جب آپ کی وفات قریب ہوئی تو رونے لگے اور کہا: ’’لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد مجھے اپنے تمام کارناموں میں ایک کارنامے کی وجہ سے بخشش کی زیادہ امید ہے، جب سخت سردی کے موسم میں رات کے وقت میں مہاجرین کے سریہ میں شریک تھا، ڈھال سنبھالے ہوئے پوری رات کاٹی تھی اور آسمان سے بارش ہو رہی تھی، میں صبح کے انتظار میں تھا کہ کافروں پر دھاوا بولوں۔ آپ لوگ بھی اپنے لیے جہاد لازم کر لو، میں اتنے اتنے معرکوں میں شریک ہوا، میرے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جس پر تلوار نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو اور اب دیکھو میں اپنے بستر پر مر رہا ہوں جیسے اونٹ مرتا ہے۔ بزدلوں کی آنکھیں خوف سے نہ سوئیں، میں شہادت کی موت مرنا چاہتا تھا لیکن قضا وقدر کا یہی فیصلہ تھا کہ اپنے بستر پر مروں۔‘‘ آپ نے موت کے وقت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی بناتے ہوئے کہا: ’’میں اپنی وصیت، میراث کی تقسیم اور اپنے عہد کا نفاذ عمر بن خطاب کے حوالے کرتا ہوں۔‘‘ سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ سن کر رونے لگے تو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اور خالد کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ شاعر نے کہا ہے: