کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 57
ہیں۔ لوگ آپ پر چڑھ دوڑے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ پر چھلانگ لگائی اس کو پٹخ دیا اور مارنے لگے اور اپنی دونوں انگلیوں کو اس کی دونوں آنکھوں میں دھنسا دیا، عتبہ چیخنے لگا، لوگ اس سے دور ہٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، جوں ہی ان میں سے کوئی آپ کے قریب آنے کی کوشش کرتا تو اسے کوئی بزرگ جو اس کے قریب ہوتا پکڑ لیتا۔ اس طرح لوگ آپ ( رضی اللہ عنہ ) سے دور ہٹ گئے۔ پھر آپ ان مجلسوں میں بھی گئے جہاں کفر کی حالت میں اکٹھا ہوتے تھے۔ وہاں آپ نے ایمان کا اعلان کیا۔  آپ برابر ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر آگیا (یعنی دوپہر کا وقت ہوگیا)۔ عمر رضی اللہ عنہ تھک کر بیٹھ گئے۔ وہ سب آپ کے سر پر آگئے۔ آپ نے کہا: جو تمہاری سمجھ میں آئے کر لو، اللہ کی قسم! اگر ہم تین سو آدمی ہوتے تو تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دیتے یا ہم اسے تمہارے لیے چھوڑ دیتے۔  اسی دوران میں زرق برق ریشمی قمیص میں ملبوس ایک آدمی آیا اور کہا: کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: خطاب کا بیٹا صابی ہوگیا ہے۔ اس نے کہا: اسے چھوڑ دو، اس نے اپنے لیے دین اختیار کیا ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ بنو عدی تم کو اپنا آدمی سونپ دیں گے؟ (ان کا ہجوم) ایک کپڑے کے مانند تھا جو آپ سے اتر گیا۔ میں نے آپ سے مدینہ میں کہا: اے ابا جان! وہ کون آدمی تھا جس نے اس دن آپ سے لوگوں کو ہٹایا تھا؟ آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! وہ عاص بن وائل سہمی تھا۔  سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا اسلامی دعوت پر اثر: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب سے جناب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہم کافروں پر برابر بھاری رہے، ہمیں یاد ہے کہ ہم میں خانہ کعبہ کے طواف اور اس میں نماز پڑھنے کی طاقت نہ تھی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو آپ نے ان سے لڑائی کی، یہاں تک کہ وہ ہمیں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر ہم نے نماز پڑھی اور طواف کیا۔  نیز آپ کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا ایک فتح اور آپ کی ہجرت ایک مدد اور خلافت ایک رحمت تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم خانہ کعبہ میں نماز اور اس کے طواف کی طاقت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے