کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 553
فوجی کے حوالے کیا کہ یہ خط لے جاؤ اور انہیں دے دو۔ اس خط میں حکم دیا تھا کہ عمرو مجمع عام میں بیٹھیں اور گواہوں کی گواہی سے فوجی کی شکایت کی تصدیق ہو جانے پر اس سے اپنے اوپر کوڑے لگوائیں چنانچہ گواہوں نے تصدیق کر دی کہ ہاں عمرو رضی اللہ عنہ نے اسے منافق کہا ہے۔ جب یہ تصدیق ہوگئی تو بعض لوگوں نے سوچا کہ اگر فوجی عمرو رضی اللہ عنہ کو نہ مارتا اور اس کے بدلے کچھ معاوضہ لے کر چھوڑ دیتا تو بہتر ہوتا لیکن اس نے انکار کر دیا اور جب عمرو رضی اللہ عنہ کے سر کے پاس انہیں مارنے کھڑا ہوا تو ان سے پوچھا: کیا آپ کو مارنے سے مجھے کوئی چیز روک سکتی ہے؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ جس بات کا تمہیں حکم ملا ہے اسے کر گزرو۔ تب اس آدمی نے کہا: میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ ۳: بصرہ کے گورنر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایات: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا، وہ دشمنوں میں کافی رعب رکھنے والا اور انہیں زیر کرنے والا تھا۔ ایک فتح کے موقع پر مجاہدین کو مال غنیمت حاصل ہوا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو اس کے حصے کا کچھ مال دے دیا لیکن اس نے کہا: میں اتنا ہی نہیں بلکہ سب لوں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے اور اسے بیس کوڑے مارے اور سر کے بال منڈوا دیے۔ اس آدمی نے اپنے بالوں کو اکٹھا کیا اور لے کر سیدھا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔ اس آدمی نے آتے ہی اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا اور بالوں کو نکال کر انہیں عمر رضی اللہ عنہ کے سینے پر پھینک دیا اور کہا: سنیے! اللہ کی قسم اگر جہنم کا خوف نہ ہوتا تو…عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سچ کہہ رہے ہو کہ اگر جہنم کا خوف نہ ہوتا تو… پھر اس نے اپنا پورا قصہ بیان کیا کہا کہ میں دشمنوں کو زیر کرنے والا اور ان میں رعب رکھنے والا آدمی تھا اور پھر اپنا پورا واقعہ بتایا اور کہا: مجھے ابوموسیٰ اشعری نے بیس کوڑے مارے ہیں اور میرا سر منڈوایا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات سن کر فرمایا: اگر میری ساری رعایا اس آدمی کی طرح جرأت مند ہو جائے تو یہ میرے نزدیک سارے مال غنیمت سے بہتر ہے پھر آپ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا: ’’السلام علیک… حمدوصلاۃ کے بعد! فلاں نے مجھے ایسی ایسی بات بتائی ہے اگر تم نے یہ حرکت مجمع عام میں کی ہے تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ مجمع عام میں بیٹھو تاکہ وہ تم سے بدلہ لے اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں بیٹھو تاکہ وہ تم سے بدلہ لے۔‘‘ چنانچہ وہ آدمی آیا، تو لوگوں نے اس سے کہا: معاف کر دو۔ اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم، نہیں کسی کے بھی کہنے سے نہیں چھوڑوں گا اور جب بدلہ دینے کے لیے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیٹھے تو آدمی نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور کہا: اے اللہ میں نے انہیں معاف کر دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، آپ نے ایک آدمی کو تیزی سے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہا: یہ آدمی ہم سے ملنا چاہتا ہے۔ آپ نے اپنی اونٹنی بٹھا دی اور اس آدمی