کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 541
اور ان کی بجا آوری کا اسلام میں سختی سے حکم دیا گیا ہے مثلاً عہدوپیمان کی وفاداری، عمل میں خلوص وللہیت اور ہمہ وقت اللہ کا خوف، نیکی، تقویٰ اور جملہ اعمال خیر میں کاروان خیرواصلاح کے ساتھ تعاون، اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے حکام وعوام کے لیے خیر خواہی وہمدردی وغیرہ۔ بلاشبہ ان مکارم اخلاق کی پابندی پوری انسانیت کو اصلاح ودرستی کی راہ پر لے جانے والی ہے۔ ان اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پابندی اور ان کی بجا آوری صرف گورنران کی ذات تک محدود نہ تھی بلکہ ان پر واجب تھا کہ وہ خود اس کا التزام کرنے کے ساتھ اپنے خطبوں ونصیحتوں میں، خطوط ورسائل میں اور عملی برتاؤ میں اسے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ خلافت راشدہ کے دور میں گورنران عموماً ان اعلیٰ اخلاقیات کی بجا آوری اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں ذاتی طور پر اور رعایا کے ساتھ اپنے برتاؤ میں بھی ایک صالح نمونہ تھے۔ شعبہ ترجمہ اور گورنران کے اوقات عمل شعبہ ترجمہ: خلفائے راشدین کے دور میں ترجمہ کا کام والیان ریاست کے معاون عہدوں میں شمار کیا جاتا تھا اور بیشتر اوقات میں اس کی سخت ضرورت محسوس کی جاتی تھی۔ ایک مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عراقی گورنران سے مطالبہ کیا کہ دارالخلافہ مدینہ میں ہمارے پاس فارس کے کچھ جاگیرداروں کو بھیج دو تاکہ خراج کے بارے میں ان سے کچھ تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے پاس جاگیرداروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک ترجمان بھی بھیجا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں فارسی زبان اچھی طرح آتی تھی اور انہوں نے ہی مدینہ میں عمر رضی اللہ عنہ اور ہرمزان کے درمیان ترجمانی کی تھی۔ خلفائے راشدین کے دور میں پوری اسلامی سلطنت میں بلکہ اس سے پہلے بھی ترجمہ اور ترجمانی کا عام رواج تھا۔ پچھلے مباحث میں جہاں یہ ہم جان چکے ہیں کہ خراج کے دواوین ودفاتر غیر عربی زبان میں تھے وہیں ہمیں اس بات کا بھی شعور ہوتا ہے کہ ان ریاستوں میں مترجمین کی کس قدر ضرورت رہی ہوگی جو خراج وغیرہ کے معاملات میں ترجمانی کا کام کرتے رہے ہوں گے۔ بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ خراج کے اعلیٰ افسران غیر عربی تھے۔ اسی طرح غلاموں اور مختلف اسلامی شہروں میں نو مسلموں کی کثرت نے عدل وقضاء سے متعلق بہت سارے معاملات میں ترجمہ کی ضرورت کو کافی اہم بنا دیا تھا۔ اسی طرح فاتح قائدین اسلام جو عموماً گورنران ہی ہوا کرتے تھے ان کے اور مفتوحہ ممالک کے باشندوں کے درمیان بات چیت کے لیے مترجمین کی ضرورت یقینی ہوا کرتی تھی۔