کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 53
فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى (7) اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (8) (طٰہ: ۱۔۸) ’’طہٰ۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑجائے، بلکہ اس کی نصیحت کے لیے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمان کو پیدا کیا ہے۔ جو رحمن ہے عرش پر قائم ہے۔ جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرۂ خاک) کے نیچے ہر ایک چیز پر ہے۔ اگر تو اونچی بات کہے تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بہترین نام اسی کے ہیں۔‘‘ یہ آیات آپ کے دل پر بہت اثر انداز ہوئیں۔ آپ نے کہا: کیا قریش اسی سے بھاگتے ہیں؟ پھر جب اللہ کے اس فرمان تک پہنچے: إِنَّنِي أَنَا اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (14) إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى (15) فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَى (16) (طٰہ: ۱۴۔ ۱۶) ’’بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں۔ پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ قیامت یقینا آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو۔ پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، پس تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ نے کہا: جو ایسی بات کہہ رہا ہو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کی جائے۔ مجھے بتاؤ محمد کہاں ہیں؟  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا اور قبول اسلام: جب خباب رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سنا تو گھر سے نکلے۔ وہ چھپے ہوئے تھے۔ اور کہا: اے عمر! خوش ہوجاؤ، مجھے امید ہے کہ آپ کے حق میں بروز سوموار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہو چکی ہے: (( اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِأحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ إِلَیْکَ بِأَبِیْ جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ أَوْبِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔))