کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 529
سے بچایے۔ ابوعبیدہ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر انہیں (صحابہ کو) کسی چیز کا ذمہ دار بنائیں تو قابل قدر تنخواہ سے نوازیں تاکہ ان میں خیانت یا لوگوں سے مال لینے کا احساس تک نہ پیدا ہو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے کمانڈروں، گاؤں کے امراء وحکام اور تمام گورنروں وافسران کو ان کے عمل کے حساب سے معاوضہ وعطیہ دیتے تھے، تاکہ وہ اپنے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دیں۔ جیسا کہ ابھی یہ بات گزری ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو رعایا کے مال سے مستغنیٰ اور پارسا دیکھنا چاہتے تھے، چنانچہ اسی مناسبت سے ان سے کہتے تھے: ’’میں نے تم کو اور خود اپنی ذات کو بیت المال (ملکی خزانہ) کے لیے یتیم کے وصی کے قائم مقام کر دیا ہے، لہٰذا جو مال دار ہو وہ پاک دامنی اختیار کرے اور جو محتاج ہو وہ اس میں سے معروف طریقے سے کھائے۔ آپ نے تقریباً اپنے تمام تر گورنران وافسران اور سرکاری کارندوں کے لیے خاص اور مستقل تنخواہیں مقرر کر دی تھیں۔ خواہ وہ روزینہ کی شکل میں رہی ہوں یا ماہانہ اور سالانہ شکل میں، تاریخی مصادر میں بعض تنخواہوں اور وظائف کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں کچھ خوراک کی شکل میں تھے اور کچھ مقررہ نقود ومبالغ کی شکل میں۔ روایات سے ثابت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضاء اور بیت المال کا، عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فرات سے سیراب ہونے والے علاقوں کی پیمائش کا اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو نماز اور اسلامی فوج کا ذمہ دار بنایا تھا اور ان سب کو ایک بکری روزینہ دیتے تھے، نصف بکری، اس کے بازو اور پائے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا حصہ تھا اس لیے کہ وہ نماز اور فوج کے ذمہ دار تھے اور اس کا ربع (1/4) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا ربع(1/4) عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کا حصہ تھا۔ اسی طرح روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے مصر پر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی گورنری کے دوران ان کی تنخواہ دو سو (۲۰۰) دینار مقرر کی تھی۔ سیّدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب ۳۰ ہزار آبادی والے شہر مدائن پر گورنر تھے تو ان کی تنخواہ پانچ ہزار (۵۰۰۰) درہم مقرر کی تھی، لیکن ان کے زہد کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہاتھ کی معمولی کمائی پر گزر بسر کر لیتے اور تنخواہ محتاجوں وضرورت مندوں پر صدقہ کر دیتے۔ علاوہ ازیں دوسری بہت سی روایات وارد ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ کے گورنروں کی تنخواہوں میں تفاوت واختلاف پر دلالت کرتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ اختلاف فاروقی دور حکومت میں حالات وظروف کی ترقی وتبدیلی پر منحصر تھا۔ یہ غیر معقول بات تھی کہ آپ کی حکومت کے اول دن سے عمال وگورنران کی جو تنخواہیں تھیں وہ اسی مقدار میں آپ کے عہد خلافت کے آخری ایام تک باقی رہیں، اس لیے کہ فتوحات کی وسعت اور بیت المال کی آمدنی میں