کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 528
کی مخالفت کی ہے۔ ۶: معزولی کے بعد ان کی عزت واحترام: عوام پر گورنروں کا ایک حق یہ ہے کہ عہدہ سے معزولی کے بعد بھی وہ ان کا ادب واحترام کریں۔ چنانچہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے جب ’’اردن‘‘ کی گورنری سے شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو معزول کیا تو ان کی معزولی کی وجہ بھی بتا دی اور خود جب شرحبیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے امیرالمومنین! کیا آپ نے ناراضی کی بنا پر مجھے معزول کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں جس طرح چاہتا ہوں تم اسی طرح ہو، لیکن اس منصب کے لیے تم سے زیادہ طاقتور آدمی مجھے مطلوب ہے۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور آپ نے مناسب سمجھا کہ آپ کی نماز میں عیب لگانے والوں سے دور رکھنے میں ہی آپ کا احترام ہے۔ حالانکہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کا مکمل علم تھا اور مکمل نماز نبوی کی طرح لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ بہرحال آپ نے احتراماً سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نماز کی امامت کرنے سے منع کر دیا کہ مبادا آپ جاہلوں کی زبان درازی اور گستاخی کے شکار ہو جائیں۔ ۷: ان کے مادی حقوق: مادی اعتبار سے گورنران کے کچھ حقوق ہیں، ان میں سب سے اہم تنخواہ ہے جس پر زندگی گزارنے کا انحصار ہوتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، بالخصوص خلفائے راشدین نے گورنروں کی تنخواہ کو کافی اہمیت دی، انہیں ان کا حق دیا، مزید برآں مالی تعاون کر کے انہیں عوام الناس سے بے نیاز کر دیا تاکہ لوگ ان پر اثر انداز نہ ہوں اور انہیں رشوت کے چکر میں پھنسانے کی کوشش نہ کریں۔سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بات کے لیے ہمیشہ کوشاں تھے کہ ہمارے گورنران پارسائی اور رعایا کے مال سے پاک دامنی وبے نیازی کی زندگی گزاریں اور ان کے پاس اتنا مال رہے کہ وہ دوسروں کے مال سے بے نیاز رہیں۔ شاید آپ نے اس سلسلے میں خطرناک متوقع اندیشوں کو محسوس کر لیا تھا اور یہ جان لیا تھا کہ اگر اپنے گورنران کو پاک دامن بنانا ہے اور رعایا کی دولت سے بے نیاز کرنا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں ان کی ضروریات سے زیادہ مال دیا جائے۔ ایک مرتبہ ابوعبیدہ اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان اسی موضوع پر گفتگو ہوئی، تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیرالمومنین!آپ نے صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کر ڈالی، یعنی انہیں گورنر بنا کر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے ابوعبیدہ! اگر اپنے دین کی سلامتی کے لیے دین پرستوں سے تعاون نہیں لوں گا تو پھر کس سے لوں گا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسا کر ہی رہے ہیں تو انہیں تنخواہ دے کر خیانت